Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2734

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِيصَاعِهَا وَمُدِّهَاوَانْقُلْ حُمَّاهَافَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وعك أبو بكر وبلال فجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته فقال: اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد وصححها وبارك لنا فيصاعها ومدهاوانقل حماهافاجعلها بالجحفة(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر و بلال کو بخار آگیا ۱؎میں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے حضور انور کو یہ خبر دی تو فرمایا الٰہی مدینہ ہمیں ایسا پیارا کردے جیسے مکہ پیارا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اسے صحت بخش بنا دے اور اس کے صاع و مد میں ہمیں برکت دے اور یہاں کے بخار کو منتقل کرکے حجفہ میں بھیج دے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اور یہ دونوں حضرات بخار کی شدت میں مکہ معظمہ کو بہت یاد کرتے تھے۔چنانچہ حضرت بلال یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔شعرالا لیت شعری ھل ابیتن لیلۃ
بواد و عندی اذخر و جلیل
وھل اردن یوما میاہ مجنۃ
وھل تبدون بی شامۃ والفیل
غرضکہ مکہ کی آب و ہوا اور شیریں پانی حتی کہ وہاں کے گھاس و پہاڑ بھی یاد ہوتے تھے۔
۲
؎حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی یہ تمام دعائیں قبول ہوئیں۔چنانچہ آج بھی ہر مسلمان کو بمقابلہ مکہ مکرمہ کے مدینہ منورہ زیادہ پیارا ہے اور مدینہ پاک کی آب و ہوا بہت ہی صحت بخش ہےحتی کہ وہاں کی خاک خاک شفا کہلاتی ہے،وہاں کی روزی میں بڑی برکت ہے۔حجفہ حرمین طیبین کے درمیان چھوٹی سی بستی ہے جہاں اس زمانہ میں یہود آباد تھے،اب بھی وہاں کی آب و ہوا نرا بخار ہے کہ اگر پرندہ وہاں سے گزر جائے تو بیمار پڑ جاتا ہے۔(لمعات)یہ حدیث امام مالک کی دلیل ہے کہ مدینہ منورہ افضل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2734