Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2730

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَصْبِرُ عَلٰى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَّا كُنْتُ لَهٗ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يصبر على لأواء المدينة وشدتها أحد من أمتي إلا كنت له شفيعا يوم القيامة . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرا کوئی امتی مدینہ کی سختیوں اور تکلیف پر صبر نہ کرے گا مگر میں قیامت کے دن اس کا شفیع ہوں گا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎شفاعت خصوصی، حق یہ ہے کہ یہ وعدہ ساری امت کے لیے ہے کہ مدینہ میں مرنے والے حضور انور کی اس شفاعت کے مستحق ہیں۔ شعر
طیبہ میں سر کےسیدھے چلےجاؤ آنکھیں بند
سیدھی سڑک یہ شہر شفاعت نگر کی ہے
خیال رہے کہ حضور انور کی ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں رہنا بہتر تھا اور ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے مکہ معظمہ میں رہنا مسلمان کو منع ہوگیا ہجرت واجب ہوگئی اور فتح مکہ کے بعد وہاں رہنا تو جائز ہوا مگر مدینہ منورہ میں رہنا افضل قرار پایا کہ یہاں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے قرب ہے اسی لیے زیادہ تر فضائل مدینہ پاک میں رہنے کے آئے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2730