Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2741

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلٰى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «على أنقاب المدينة ملائكة لا يدخلها الطاعون ولا الدجال»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ مدینہ منورہ کے راستوں پر فرشتے ہیں یہاں نہ طاعون آسکتی ہے اور نہ دجّال ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎انقاب نقبکی جمع،پہاڑ کے درّہ یا دو پہاڑوں کے درمیان کے راستہ کونقبکہتے ہیں،یہاں مطلقًا راستہ مراد ہے۔ مدینہ منورہ پر فرشتوں کا یہ پہرہ دائمی ہے کہ اس کے تمام راستوں پر ایسے فرشتے پہرہ دے رہے ہیں جن کی وجہ سے وہ جنات مدینہ پاک میں نہیں آسکتے جن کے اثر سے طاعون پھیلتی ہے،آج تک وہاں طاعون نہ پھیلی اور نہان شاءاللّٰهپھیلے گی،دجّال بھی وہاں نہ پہنچ سکے گا،پیداوار والے ممالک میں قحط پڑتے رہتے ہیں،لوگ بھوک سے ہلاک ہوتے رہتے ہیں مگر آج تک حرمین شریفین میں قحط نہیں سنا گیا،نہ لوگ وہاں بھوک سے ہلاک ہوئے اگرچہ وہاں پیداوار کوئی نہیں یہ کھلا معجزہ ہے۔خیال رہے کہ شہر مدینہ کی حفاظت پر اور قسم کے فرشتے مامور ہیں اور روضہ اطہر پر سلام عرض کرنے کے لیے ستر ہزار دوسرے فرشتے مامور ہیں جن کی دن رات تبدیلیاں ہوتی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2741