Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2738

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الله سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر بن سمرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الله سمى المدينة طابة» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اللّٰه تعالٰی نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی لوح محفوظ میں مدینہ منورہ کا نام طابہ،طیبہ ہے یا رب تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو حکم دیا کہ اس کا نام طابہ رکھیں،اس کے معنی ہیں پاک و صاف اور خوشبو دار جگہ،اسے رب تعالٰی نے کفر و شرک سے پاک کیا،یہاں کے باشندوں کو بدخلقی وغیرہ سے صاف فرمایا جیسا کہ آج بھی مشاہدہ ہے کہ مدینہ منورہ کے باشندے اخلاق وعادات اور نرمی طبیعت میں بہت اعلٰی ہیں،نیز زمین مدینہ بلکہ درو دیوار میں ایک خاص مہک ہے وہاں کے خس و خاشاک اگرچہ گلی کوچوں میں جمع رہیں مگر بدبو نہیں دیتے،وہاں کی مٹی میں قدرتی خوشبو ہے مگر محسوس اسے ہو جس کے دماغ میں کفرونفاق کا نزلہ زکام نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2738