Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2737

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرٰى. يَقُولُونَ: يَثْرَبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا تَنْفِي الْكِيرُ خُبْثَ الْحَدِيدِ " (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أمرت بقرية تأكل القرى. يقولون: يثرب وهي المدينة تنفي الناس كما تنفي الكير خبث الحديد " (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مجھے ایسی بستی کا حکم دیا گیا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی ۱؎لوگ اسے یثرب کہیں گے حالانکہ وہ مدینہ ہے ۲؎لوگوں کو ایسے صاف کردے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ ارشاد گرامی ہجرت سے پہلے ہوا کہ مجھے ہجرت کرکے وہاں جانے کا حکم دیا ہے،ہوسکتا ہے کہ بعد ہجرت کا یہ فرمان ہو یعنی مجھے رب تعالٰی نے اس مدینہ کی بستی میں رہنے کا حکم دیا ہے۔کھا جانے کے معنے یہ ہیں کہ یہاں کے لوگ تمام ملکوں کو فتح کریں گے اور ان کے مال اور خزانے مدینہ میں پہنچ جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ شام،فارس اور روم کے خزانے مدینہ پہنچے یا یہاں کے باشندے پہلے بھی دوسروں پر غالب آتے رہے ہیں۔چنانچہ پہلے مدینہ منورہ میں قوم عمالقہ رہی تو وہ بہت ملکوں پر غالب آگئی پھر یہاں یہود آباد ہوئے تو وہ عمالقہ پر غالب آئے پھر مہاجرین مؤمن یہاں رہے وہ تمام روئے زمین پر غالب آگئے۔
۲
؎مدینہ منورہ کے نام سو سے بھی زیادہ ہیں،طیبہ، طابہ، بطحیٰ، مدینہ، ابطح وغیرہ،ہجرت سے پہلے لوگ اسے یثرب کہتے تھے یا تو اس لیے کہ یہاں قوم عمالقہ کا جو پہلا آدمی آیا اس کا نام یثرب تھا یا یہ لفظثربسے مشتق ہے بمعنی سرزنش،سزا مصیبت وبلا،رب تعالٰی فرماتا ہے: "لَا تَثْرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الْیَوْمَ"اب اسے یثرب کہنا سخت منع ہے،قرآن کریم میں جو اسے یثرب کہا گیا "یٰۤاَھۡلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ"وہ قول منافقین ہے۔امام احمد فرماتے ہیں کہ جو مدینہ منورہ کو یثرب کہے وہ توبہ کرے،بخاری نے اپنی تاریخ میں فرمایا کہ جو ایک بار اسے یثرب کہے وہ بطور کفارہ دس بار اسے مدینہ کہے۔مدینہ کے معنے ہیں اجتماع کی جگہ،مدنسے مشتق ہے بمعنی اجتماع اسی سے ہے تمدن و مدنیت،شہر کو مدینہ اسی لیے کہتے ہیں کہ و ہاں ہر قسم کے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے،کسی شاعر نے مدینہ کے عجیب معنے یہ بیان کیے۔
معجزہ شق القمر کا ہے مدینہ سے عیاں
مدنے شق کرلیا ہے دین کو آغوش میں
۳
؎یہ زمین مدینہ کی تاثیر ہے کہ اس نے وہاں سے مشرکین و کفار کو یا تو مؤمن بنادیا اور یا وہاں سے نکال دیا۔چنانچہ اوس و خزرج تو مؤمن ہوگئے بنی قریظہ ہلاک اور بنی نضیر وہاں سے جلا وطن کردیئے گئے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی خبیث وہاں مر کر دفن بھی ہوجائے تو فرشتے وہاں سے اس کی نعش کسی دوسری جگہ منتقل کردیتے ہیں اور اگر کوئی وہاں کا عاشق دوسری جگہ دفن ہوجائے تو اس کی نعش مدینہ منورہ پہنچادیتے ہیں،غرضیکہ زمین مدینہ بھی بھٹی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2737