Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2753

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلٰى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن أبي بكرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال لها يومئذ سبعة أبواب على كل باب ملكان» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکر ہ سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں مدینہ میں مسیح دجّال کا رعب نہ آ سکے اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازہ پر دو فرشتے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام نقیع ابن حارث ابن کلاہ،ثقفی ہے،طائف کے رہنے والے تھے،جب حضور انور نے طائف کا محاصرہ کیا تو آپ نے اپنے کو طائف کے قلعہ سے ایک بیرونی کنویں کی چرخی پر ڈال دیا اور اس طرح وہاں سے نکل کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوگئے ، اسلام لے آئے،آپ کا نام ابوبکرہ یعنی چرخی والے، بکرہ چرخی کو کہتے ہیں بعد میں بصرہ میں مقیم رہے، ۹۴ھ میں وہاں ہی وفات پائی اور وہاں ہی دفن ہوئے۔(اشعہ و اکمال)
۲
؎یعنی ان فرشتوں کی وجہ سے جو حفاظت مدینہ پر مامور ہوں گے نہ تو مدینہ پاک میں دجّال ہی آسکے گا اور نہ اس کا اثر و ہیبت یہاں پہنچ سکے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دجّال کی ہیبت ہر جگہ پہنچ جاوے گی کہ بعض لوگ اس کی ہیبت سے اسے مان لیں گے مدینہ طیبہ اس سے بھی محفوظ رہے گا۔مقبول بندوں کے اثر سے دل میں قوت ہوتی ہے بلکہ ان کی برکت سے شہروں میں امن و امان رہتی ہے۔حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی برکت سے مدینہ منورہ کی حفاظت کے لیے فرشتے مامور ہوئے اور فرشتوں کی برکت سے مدینہ کی زمین دجّال تو کیا اس کے اثر سے بھی محفوظ رہی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2753