Main Icon

باب:سر منڈانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2649

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهٖ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِيْنَ مَرَّةً وَاحِدَةً رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن يحيى بن الحصين، عن جدته أنها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع دعا للمحلقين ثلاثا وللمقصرين مرة واحدة رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یحیی ابن حصین سے وہ اپنی دادی سے راوی ۱؎انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے حجۃ الوداع میں سنا کہ آپ نے سر منڈانے والوں کے لیے تین بار دعا کی اور کترانے والوں کے لیے ایک بار ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ان کی دادی صاحبہ کا نام حصین بنت اسحاق ہے،قبیلہ بنی اخمس سے ہیں،حجۃ الوداع میں حضور کے ہمراہ تھیں،صحابیہ ہیں،مگر یحیی ابن حصین تابعی ہیں۔
۲
؎یہ حدیث پچھلی حدیث کی شرح ہے کہ وہاں بھی منڈانے والوں کو تین بار دعا دی گئی ہے،دوبار صراحۃً اور ایک باروالمقصرینکے ساتھ کہ واؤ اشتراک کے لیے ہے،چونکہ منڈانے والا بالکل ہی ترک زینت کرتا ہے اور کترانے والا اپنی زینت باقی رکھتا ہے،لہذا پہلا شخص ہی زیادہ دعا کا مستحق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2649