Main Icon

باب:سر منڈانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2647

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ: إِنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: قال لي معاوية: إني قصرت من رأس النبي صلى الله عليه وسلم عند المروة بمشقص. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت معاویہ نے فرمایا کہ میں نے مروہ کے پاس تیر سے ۱؎نبی کر یم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے بال مبارک کاٹے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مشقصکے حقیقی معنے ہیں لمبا دھاروار تیر۔مجازًا قینچی کو بھی کہہ دیتے ہیں یہاں یا حقیقی معنے میں ہے کیونکہ بڑھے ہوئے بال کسی چیز پر رکھ کر تیر کی نوک سے کاٹ دیتے ہیں یا مجازی معنے میں ہے یعنی قینچی۔(مرقات)
۲
؎محدثین نے اس حدیث کو بہت مشکل فرمایا ہے کیونکہ حجۃ الوداع میں حضور انور نے قران کیا تھا اور قارن منٰی میں بال اترواتا ہے نہ کہ مروہ پہاڑ پر اور جب حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے عمرہ قضا کیا تھا تو امیر معاویہ اسلام نہ لائے تھے،آپ تو فتح مکہ کے دن ایمان لائے اس لیے بعض شارحین نے کہا کہ شاید یہ عمرہ جعرانہ میں ہوگا،جب غزوہ حنین سے فارغ ہو کر حضور نے راتوں رات عمرہ کیا تھا،ہم نے اپنی کتاب "امیر معاویہ"پر ایک نظرمیں ثابت کیا ہے کہ یہ واقعہ عمرہ قضاء میں ہوا اور امیر معاویہ صلح حدیبیہ کے دن ایمان لاچکے تھے مگر ایمان کا اظہارفتح مکہ کے دن کیاجیسے حضرت عباس ابن عبدالمطلب قدیم الاسلام تھے مگر اظہار فتح مکہ میں کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2647