Main Icon

باب:سر منڈانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2648

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اَللّٰهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» . قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» . قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في حجة الوداع: «اللهم ارحم المحلقين» . قالوا: والمقصرين يا رسول الله؟ قال: «اللهم ارحم المحلقين» . قالوا: والمقصرين يا رسول الله؟ قال: «والمقصرين»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا ۱؎اے اللّٰه سر منڈانے والوں پر رحم کر صحابہ نے عرض کیا یارسول اللّٰه کترانے والوں پر بھی حضور نے فرمایا الٰہی سر منڈانے والوں پر رحم کر لوگوں نے عرض کیا یارسول اللّٰه کترانے والوں پر بھی تو فرمایا کترانے والوں پر۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ دعا یا تو منٰے میں مانگی یا اس دن جس دن صحابہ نے عمرہ کر کے احرام کھولے۔خیال رہے کہ بعض روایات میں ہے کہ حضور نے حدیبیہ کے دن یہ دعا کی،ہوسکتا ہے کہ دونوں موقعہ پر کی ہو۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ احرام کھولتے وقت سرمنڈانا افضل ہے کہ حضور انور نے منڈانے والوں کے لیے تین بار دعا کی۔والمقصرینمیں منڈانے والوں کا بھی ذکر ہے اور کترانے والوں کے لیے ایک بار،وہ بھی صحابہ کرام کی عرض پر،رب توفیق دے تووہاں منڈائے، رب تعالٰی نے بھی پہلے منڈانے والوں کا ذکر فرمایا پھر کترانے والوں کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2648