Main Icon

باب:سر منڈانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2650

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتٰى مِنًى فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتٰى مَنْزِلَهٗ بِمِنًى وَنَحَرَ نُسُكَهٗ ثُمَّ دَعَا بِالحَلَّاقِ وَنَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهٗ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ فَقَالَ «احْلِقْ» فَحَلَقَهٗ فَأَعْطَاهُ طَلْحَةَ فَقَالَ: «اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم أتى منى فأتى الجمرة فرماها ثم أتى منزله بمنى ونحر نسكه ثم دعا بالحلاق وناول الحالق شقه الأيمن فحلقه ثم دعا أبا طلحة الأنصاري فأعطاه إياه ثم ناول الشق الأيسر فقال «احلق» فحلقه فأعطاه طلحة فقال: «اقسمه بين الناس»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم منٰی میں تشریف لائے تو جمرہ پر آئے اسے کنکر مارے پھر اپنے منٰی کے خیمہ میں تشریف لائے اور قربانی کا جانور ذبح کیا پھرمونڈنے والے کو بلایا ۱؎اور اسے اپنی داہنی جانب پیش کی اس نے مونڈ دی ۲؎پھر ابوطلحہ انصاری کو بلایا وہ بال انہیں عطا فرمادیئے پھر بائیں جانب حالق کے سامنے کی فرمایا مونڈدو اس نے مونڈ دی پھر وہ بال ابو طلحہ کو عطا فرماکر فرمایا انہیں لوگوں میں بانٹ دو۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ان مونڈنے والے کا نام معمر ابن عبداللّٰه قرشی عدوی ہے جو قدیم الاسلام صحابی ہیں،مسند امام احمد میں ہے کہ جب معمر نے داہنے ہاتھ میں استرہ لیا اور مونڈنے لگے تو حضور نے فرمایا اے معمر اس نعمت کی قدر کرو،انہوں نے عرض کیا کہ مجھ پر اللّٰه کی بڑی نعمت یہ ہے کہ آج میرا ہاتھ حضور کے سر مبارک پر ہے۔(اشعہ)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاجی بقرعید کے دن پہلے رمی،پھر قربانی،پھر حجامت کرے،ہمارے ہاں یہ ترتیب واجب ہے،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس دن سو قربانیاں کی تھیں،۶۳ اپنے دست مبارک سے باقی ۳۷ سیدنا علی سے کرائیں۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ حجامت میں دایاں حصہ پہلے،بایاں حصہ بعد میں منڈانا چاہیے،امام ابوحنیفہ فرمایا کرتے تھے کہ نائی کا دایاں اور بایاں معتبر ہے کہ فاعل وہ ہے،اس صورت میں مخلوق کا بایاں پہلے منڈے گا دایاں بعد میں مگر یہ حدیث سن کر امام صاحب نے اپنے قول سے رجوع کرلیا اور فرمایا کہ حدیث قیاس پر مقدم ہے اگر نائی پیچھے کھڑا ہو کر حجامت بنائے تو دونوں کا دایاں بایاں ایک ہی سمت میں ہوگا۔(مرقات)حجامت کے بعد لب و داڑھی بنوانا،پھر ناخن ترشوانا سنت ہے۔(مرقات)
۳
؎اس موقعہ پر حضور انور نے اپنے ناخن شریف بھی لوگوں میں تقسم کرائے،یہ بال و ناخن تبرک کے لیے ساروں میں تقسیم کیے گئے، ان میں سے بعض حضرات تو یہ تبرکات اپنی قبروں میں لے گئے تاکہ وہاں کی مشکلات آسان ہوں جیسے حضرت امیر معاویہ و عمرو ابن عاص وغیرہم اور بعض حضرات چھوڑ گئے تاکہ قیامت تک مسلمان ان کی زیارت کرتے رہیں۔چنانچہ آج تک مختلف جگہ یہ بال شریف موجود ہیں اور ان کی زیارتیں ہورہی ہیں،صحابہ کرام ان بالوں کو پانی میں غوطہ دے کر دواءً پیتے تھے،حضرت شیخ نے یہاں ایک شعر لکھا۔شعر
مرا از زلف تو موئے بسند است
فضولی مے کنم بوئے بسند است
اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ انسان کے بال جدا ہوکر بھی پاک ہیں۔دوسرے یہ کہ اللّٰه تعالٰی نے حضور کے بعض اجزاء بدن شریف محفوظ رکھے ہیں۔تیسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات خصوصًا حضور کے بال و ناخن شریف سنبھال کر رکھنا،ان کی زیارت کرنا،ان سے شفا حاصل کرنا،ان کے توسل سے دعائیں مانگنا،قبر میں انہیں ساتھ لے جانا سب جائز و بہتر ہے کہ یہ تقسیم انہی مقاصد کے لیے ہوئی تھی۔اس کی تحقیق شامی اور ہماری کتاب"جاءالحق" حصہ اول میں ملاحظہ کیجئے اور
ان شاءاللّٰهاس شرح میں بھی اپنے موقعہ پر اس کا ذکر آئے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2650