Main Icon

باب: روزہ کی قضا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2033

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة قالت: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من مات وعليه صوم صام عنه وليه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جو مرگیا اور اس پر روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے ادا کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس شخص پر رمضان یا نذر کا روزہ قضا ہوگیا پھر اسے قضا کرنے کا موقعہ ملا مگر قضا نہ کیا کہ مرگیا تو اس کا ولی وارث اس کی طرف سے روزہ ادا کردے۔امام احمد کے ہاں اس طرح کہ روزے رکھ دے اور باقی تمام اماموں کے ہاں اس طرح کہ روزوں کا فدیہ دے دے چند وجہوں سے:ایک یہ کہ رب تعالٰی فرماتا ہے: "وَعَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیۡنٍ"جو روزہ کی طاقت نہ رکھیں ان پر فدیہ ہے اور میت بھی طاقت نہیں رکھتا۔دوسرے یہ کہ خود حدیث شریف میں صراحۃً وارد ہوا کہ"الا لایصومن احدٌ عن احد و لا یصلین احد عن احد"کوئی کسی کی طرف سے نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے جیساکہ آگے آرہا ہے۔تیسرے یہ کہ خود صحابہ کرام کا فتوےٰ یہ رہا کہ میت کی طرف سے روزوں کا فدیہ دیا جاوے روزہ رکھا نہ جائے،دیکھو مرقات۔چوتھے یہ کہ قیاس شرعی بھی یہ ہی چاہتاہے کیونکہ نماز بمقابلہ روزہ زیادہ اہم و ضروری ہے مگر میت کی طرف سے کوئی نمازیں نہیں پڑھتا تو روزے کیسے رکھ سکتا ہے محض بدنی عبادت خودہی کرنی پڑتی ہے دوسرے سے نہیں کرائی جاتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2033