Main Icon

باب: روزہ کی قضا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2034

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ

عن نافع عن ابن عمر عن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قال: "من مات وعليه صيام شهر رمضان فليطعم عنه مكان كل يوم مسكين". رواه الترمذي، وقال: والصحيح أنه موقوف على ابن عمر

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے وہ حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جو مرجائے اور اس پر ماہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر دن کی جگہ ایک مسکین کو کھلا دیا جائے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ ابن عمر پر موقوف ہے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے کہ وہاں ولی کے روزے رکھنے سے مرادحکمی روزہ تھا یعنی ادائے فدیہ۔فقہاء فرماتے ہیں کہ میت کی نمازوں کا بھی فدیہ دے دیا جائے کیونکہ نماز روزے سے زیادہ اہم ہے۔حیلہ اسقاط کی اصل یہ حدیث ہے۔اس حیلہ کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے۔
۲
؎اگرچہ حدیث موقوف ہی صحیح ہے مگر یہ موقوف حدیث مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ صحابہ کرام کے وہ اقوال جو عقل سے وراء ہوں وہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتے ہیں کہ صحابی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ہی یہ فرمایا ہے عقل کی اس میں گنجائش نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2034