Main Icon

باب: روزہ کی قضا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2031

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ،وَلَا تَأْذَنَ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "لا يحل للمرأة أن تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه،ولا تأذن في بيته إلا بإذنه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کسی عورت کو نہ تو یہ درست ہے کہ جب اس کا خاوند موجود ہو تو اس کی بغیر اجازت روزہ رکھے ۱؎نہ یہ کہ اس کی بلا اجازت اس کے گھر میں کسی کو آنے دے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خاوند جب گھر پر ہو تو اس کی صریحی یا عرفی اجازت کے بغیر نہ نفلی روزے رکھے نہ نفلی اعتکاف کرے کیونکہ مرد کو دن میں صحبت کرنے کا حق ہے اور اس کا روزہ یا اعتکاف اس حق کو روک دے گا لہذا حق والے سے اجازت لے لے،اس حکم سے نذر منتیں اور رمضان کے روزے علیحدہ ہیں کہ وہ حق شرع ہیں۔اگر عورت نے بغیر خاوند کی اجازت نفلی روزہ رکھ لیا تو وہ اس سے تڑوا کر صحبت کرسکتا ہے جس کی قضا واجب ہوگی اسی لیے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیثباب القضاءمیں لائے۔فقیر کی اس تقریر سے بہت سے اعتراضات اٹھ گئے،حدیث واضح ہوگئی۔خیال رہے کہ عورت کو نفل نماز سے منع نہیں فرمایا گیا کیونکہ وہ تھوڑی دیر میں ہوجاتی ہے اس سے خاوند کا حق صحبت نہیں مارا جاتا۔
۲
؎یعنی خاوند کی ناراضگی پر کسی مرد و عورت،اجنبی یا قریبی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ خاوند عورت کو اس کے ماں باپ سے ملنے سے نہیں روک سکتا،ہاں انہیں اپنے گھر میں آنے سے روک سکتا ہے،عورت وہاں جاکر ملے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2031