Main Icon

باب: روزہ کی قضا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2035

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسْأَلُ: هَلْ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ؟ فَيَقُولُ: لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أحَدٍ. رَوَاهُ فِي "الْمُوَطَّأِ".

عن مالك بلغه أن ابن عمر كان يسأل: هل يصوم أحد عن أحد، أو يصلي أحد عن أحد؟ فيقول: لا يصوم أحد عن أحد، ولا يصلي أحد عن أحد. رواه في "الموطأ".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں روایت پہنچی کہ حضرت عمر سے پوچھا جاتاتھا کہ کیا کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھ دے یا نماز پڑھ دے تو فرماتے تھے کہ نہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھے اور نہ کسی کی طرف سے نماز پڑھے ۱؎(مؤطا)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی تائید آیات قرآنیہ کررہی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"اور فرماتاہے:"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ"۔جن سے معلوم ہوا کہسعیاورکسبیعنی بدنی عبادات خود بندے ہی کو کرنا ہوں گی دوسرے سے نہیں کراسکتا۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں یا بعد موت کوئی شخص کسی کی طرف سے محض بدنی عبادتیں روزہ نماز وغیرہ نہیں ادا کرسکتا۔نسائی شریف میں حضرت ابن عباس سے بعینہ یہ فتویٰ نقل فرمایا،عبدالرزاق نے حضرت ابن عمر سے یہ قول نقل کیا،امام مالک نے فرمایا کہ میں نے کسی صحابی یا تابعی کے متعلق یہ نہ سنا کہ کسی نے کسی کی طرف سے نماز یا روزہ ادا کردینے کی اجازت دی ہو،یہ گفتگو نماز و روزے میں نیابت کے متعلق ہے۔رہا ان عبادات کا ثواب بخشنا وہ باتفاقِ اہلِ سنت بالکل جائزہے۔(مرقات)اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2035