Main Icon

باب: روزہ کی قضا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2032

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ لِعَائِشَةَ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ يُصِيبُنَا ذٰلِكَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن معاذة العدوية أنها قالت لعائشة: ما بال الحائض تقضي الصوم ولا تقضي الصلاة؟ قالت عائشة: كان يصيبنا ذلك فنؤمر بقضاء الصوم ولا نؤمر بقضاء الصلاة. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذہ عدویہ سے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ حائضہ کا کیا حال ہے کہ وہ روزہ تو قضا کرتی اور نماز قضا نہیں کرتی ۱؎حضرت عائشہ نے فرمایا کہ یہ عارضہ ہم کو آتا تھا تو ہم کو روزہ کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیاجاتا تھا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نماز بھی فرض ہے روزہ بھی فرض اور حیض و نفاس دونوں سے مانع،پھر نماز کی قضا کیوں نہیں ہوتی اور روزے کی کیوں ہوتی ہے۔معلوم ہوا کہ احکام شرعیہ کی عقلی حکمتیں پوچھنا برا نہیں،ہاں احکام شرعیہ پر اعتراض کرنا گناہ ہے۔فقیر نے ایک کتاب لکھی"اسرار الاحکام"اس میں احکام شریعت و طریقت کی عقلی حکمتیں بیان کی ہیں۔
۲
؎سبحان الله !کیسا ایمان افروز جواب ہے کہ مجھے عقلی حکمتوں سے غرض نہیں ہم تو حکم کے تابع ہیں، چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی قضا کا حکم دیا نماز کی قضا کا نہیں اس لیے یہ فرق ہوگیا،ہمیں عقلی حکمتوں سے کیا غرض۔بیمار طبیب کے نسخے پینے کی کوشش کرتا ہے دواؤں کے اوزان سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرتا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ روزے کی قضا میں ندرت ہے کہ سال میں سات آٹھ روزے قضاء کرنے پڑتے ہیں اس لیے اس میں دشواری نہیں اور قضائے نماز میں کثرت ہے کہ ہر مہینہ سات آٹھ دن کی فی دن پانچ نمازیں قضاءکرنی پڑتیں یعنی چالیس بلکہ بعض کو پچاس نمازیں اس میں بہت دشواری ہوتی اس لیے نمازوں کی قضا نہیں روزوں کی ہے۔و الله و رسولہ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2032