Main Icon

باب:مختلف مضامین کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2078

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ". وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: "إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجبْ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ، وَإِن كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "إذا دعي أحدكم إلى طعام وهو صائم فليقل: إني صائم". وفي رواية قال: "إذا دعي أحدكم فليجب، فإن كان صائما فليصل، وإن كان مفطرا فليطعم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے اوروہ ہو روزہ دار تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں ۱؎ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو قبول کرلے پھر اگر روزہ دار ہو تو دعا کردے اور اگر بے روزہ ہو تو کھالے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یا اس طرح کہ دعوت قبول ہی نہ کرے یا اس طرح کہ قبول کرلے اور پہنچ بھی جائے مگر وہاں کھائے نہیں یہ عذر کر دے، دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔خیال رہے کہ نفلی روزے کا چھپانا بہتر ہے مگر چونکہ یہاں چھپانے سے یا صاحب خانہ کے دل میں عداوت پیدا ہوگی یا رنج و غم،مسلمان کے دل کو خوش کرنا بھی عبادت ہے اس لیے روزے کے اظہار کا حکم دیا گیا ۔
۲
؎دعا کا حکم تو استحبابی ہے کہ وہیں نفل پڑھ کر یا بغیر نفل پڑھے دعاکردینا بہتر ہے اور کھانے کا حکم وجوبی بھی ہوسکتا ہے اور استحبابی بھی جیسا دعوت دینے والا اور جیسا موقعہ ویسا حکم۔(مرقات)لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں دعوت کے موقعہ پر روزہ توڑنے کا حکم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2078