Main Icon

باب:مختلف مضامین کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2077

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، فَقَالَ: "أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ". ثُمَّ قَامَ إِلَى ناحِيةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ فَدَعَا لأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيتِهَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أنس قال: دخل النبي -صلی اللہ عليه وسلم- على أم سليم فأتته بتمر وسمن، فقال: "أعيدوا سمنكم في سقائه، وتمركم في وعائه، فإني صائم". ثم قام إلى ناحية من البيت فصلى غير المكتوبة فدعا لأم سليم وأهل بيتها. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے ہاں تشریف لائے ۱؎تو وہ حضور کی خدمت میں چھوارے و گھی لائیں ۲؎حضور نے فرمایا اپنا گھی تو مشکیزہ میں لوٹ دو اور اپنے چھوارے اس کے برتن میں ڈال دو میں روزہ دار ہوں ۳؎پھر گھر کے ایک گوشہ میں کھڑے ہوئے تو فرض کے علاوہ نماز پڑھی پھر ام سلیم اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کی ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ام سلیم بنت ملحان کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں کہ یہ حضرت انس کی والدہ ہیں اور ابوطلحہ کی زوجہ،ان کے نام میں بہت اختلاف ہے امامہ ہے یا طیکہ یا غمیصہ یا ربیصاء،پہلے مالک ابن نضر کے نکاح میں تھیں،ان سے حضرت انس پیدا ہوئے،پھر حضرت ابو طلحہ سے اسلام کی شرط پر نکاح کیا۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم صرف ملاقات کے لیے تشریف لائے تھے اور ام سلیم نے خاطر و تواضع کے طور پر یہ پیش کیا باقاعدہ دعوت نہ تھی ورنہ ام سلیم حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے روزہ کے دن دعوت نہ دیتیں یا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم روزے کے عذر سے دعوت قبول نہ فرماتے،نیز دعوت میں عمومًا روٹی سالن پیش کیا جاتا ہے نہ کہ فقط کھجورو گھی۔اس لیے معلوم ہوا کہ ملاقاتی اور مہمان کی خاطر و تواضع کرنا سنت ہے،علماء فرماتے ہیں کہ بغیر کھائے پیئے مُردوں کی سی ملاقات ہے۔
۳
؎روزے کا اظہار اس لیے فرمادیا تاکہ جناب ام سلیم کو اس رد فرمادینے پر رنج نہ ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ نفلی روزہ دار کو اگر پتہ ہو کہ میرے روزے سے گھر والے مطلع ہو کر نہ کھانے پر ناراض نہ ہوں گے تو روزہ نہ توڑنا افضل ہے اور اگر انکے رنجیدہ ہونے کا اندیشہ ہو تو روزہ توڑ دینا اور کچھ کھالینا بہتر ہے بعد میں قضاء کی جائے،یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی چھپی عبادت کا ہر اظہار ریاء نہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ گھر میں کھانے پینے کا سامان جمع رکھنا توکل کے خلاف نہیں،دیکھو حضرت ام سلیم کے گھر گھی کی مشکیں بھری ہوئی تھیں اور چھواروں کے ٹوکرے۔
۴
؎گھر کے گوشہ میں نماز تو اس لیے پڑھی تاکہ وہ گھر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے نفل سے متبرک ہو جائے اور یہ جگہ گھر والوں کے لیے دائمی جائے نماز بن جائے اور دعا اس لیے کی تاکہ معلوم ہو کہ روزہ دار آکر کھانا نہ کھائے تو گھر والوں کے لیے دعا ضرور کردے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2077