- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- حدیث نمبر 2080
باب:مختلف مضامین کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2080
روزے کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ، فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّا كُنَّا صَائِمَتَيْنِ، فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ، فَأَكَلَنَا مِنْهُ قَالَ: "اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ مَكَانَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَذَكَرَ جَمَاعَةً مِنَ الْحُفَّاظِ رَوَوْا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكرُوا فِيهِ عَن عُرْوَةَ، وَهٰذَا أَصَحُّ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَى عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ.
وعن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: كنت أنا وحفصة صائمتين، فعرض لنا طعام اشتهيناه، فأكلنا منه، فقالت حفصة: يا رسول الله! إنا كنا صائمتين، فعرض لنا طعام اشتهيناه، فأكلنا منه قال: "اقضيا يوما آخر مكانه". رواه الترمذي، وذكر جماعة من الحفاظ رووا عن الزهري عن عائشة مرسلا، ولم يذكروا فيه عن عروة، وهذا أصح. ورواه أبو داود عن زميل مولى عروة عن عروة عن عائشة.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت زہری سے وہ عروہ سے وہ عائشہ صدیقہ سے راوی فرماتی ہیں کہ میں اور حفصہ دونوں روزہ دارتھیں ۱؎اور ہمارے سامنے وہ کھانا آیا جس کی ہمیں رغبت تھی ہم نے اس میں سے کھالیا حضرت حفصہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم دونوں روزہ دارتھیں ہمارے سامنے مرغوب کھانا آیا تو ہم نے اس سے کھالیا ۲؎سرکار نے فرمایا اس کی جگہ ایک دن کی قضا کرو۳؎ترمذی حافظین کی ایک جماعت نے اسے زہری سے انہوں نے حضرت عائشہ سے مرسلًا روایت کیا ۴؎اور اس میں عروہ کا ذکر نہ کیا یہ ہی صحیح تر ہے اور روایت کیا ابوداؤد نے اسے عروہ کے مولے زمیل سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ۵؎
شرح حدیث
۱∞؎اس جملہ سے معلوم ہوا کہ ان دونوں بزرگ بیبیوں کا یہ روزہ نفلی تھا قضائے رمضان یا نذر کا فرضی روزہ نہ تھا کہ فرضی روزہ توڑ دینے کی ہمت کوئی عام مسلمان بھی نہیں کرتا چہ جائیکہ ازواج مطہرات محض اچھا کھانا دیکھ کر ایک اہم عبادت توڑ دیں لہذا بعض شافعیوں کا اسے فرضی روزہ قرار دینا درست نہیں ان بزرگوں کی شان کے خلاف ہے۔
۲؎یہ دونوں بزرگ سمجھیں کہ جب دعوت کے لیے نفلی روزہ توڑ دینا جائز ہے تو ہدیہ کے لیے بھی جائز ہونا چاہیے کہ دونوں قریبًا یکساں ہیں یہ ہی اجتہادی غلطی یا خطا تھی۔
۳؎یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کیونکہاقضیاءامر ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔معلوم ہوا کہ اگر نفلی روزہ شروع کرکے توڑ دیا جائے تو اس کی قضا واجب ہوتی ہے اورجس کی قضاء واجب ہو وہ خود بھی واجب ہوتا ہے لہذا نفلی روزہ شروع کردینے سے واجب ہوجاتاہے۔شوافع فرماتے ہیں کہ یا تو یہ روزہ قضا یا نذر کا واجب روزہ تھا اس کا جواب تو ابھی عرض کر دیا گیا اور یا یہ حکم استحبابی ہے نہ کہ وجوبی کیونکہ نفل پہلے بھی نفل ہے اور بعد شروع بھی نفل،شروع کے بعد واجب ہوجانا اس کی نفلیت کے خلاف ہے مگر وہ حضرات بھی نفل حج وعمرہ کو شروع ہوجانے کے بعد واجب مانتے ہیں اور توڑ دینے یا چھوڑ دینے پر قضاء لازم سمجھتے ہیں لہذا ان کا یہ استدلال یہاں بھی کمزور ہے،نیز جب نذر مان لینے سے نفل واجب ہوجاتے ہیں تو شروع کردینے سے بھی واجب ہوجانے میں کوئی مضائقہ نہیں اس مسئلے پر بہت قوی دلائل ہیں جو ابھی کچھ پہلے عرض کئے جاچکے ہیں۔دارقطنی نے حضرت جابر سے اور ابوداؤد طیالسی نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی دعوت کی جب سب حضرات کھانے لگے تو ایک صاحب الگ بیٹھ گئے بولے میرا روزہ ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا توڑ دو اور اپنے بھائی میزبان کو خوش کرو اور اس کی قضاء کرلو۔(مرقات و لمعات)
۴؎یہاں مرسل سے اصطلاحی مرسل مراد نہیں یعنی صحابی کا چھوٹ جانا بلکہ لغوی مرسل مراد ہے یعنی اسناد میں راوی کا رہ جانا جسے محدثین کے ہاں منقطع کہتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ جناب زہری و حضرت عائشہ کے درمیان عروہ ہیں جن کا اس اسناد میں ذکر نہیں۔
۵؎یعنی اسناد میں بھی انقطاع ہے کیونکہ زمیل نے عروہ سے حدیث نہیں سنی،نیز زمیل مجہول شخص ہیں لہذا یہ اسناد ضعیف ہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ یہ ضعف مضر نہیں کیونکہ ابن حبان وغیرہ نےعن جریر ابن حازم عن یحیی ابن سعید عن عروہ عن عائشہروایت کی اور ابن ابی شیبہ نےعن خصیف عن سعید ابن جبیر عن عائشہروایت کی اور طبرانی نےعن خصیف عن عکرمۃ عن ابن عباس عن عائشہروایت کی اور بزاز نےعن حماد ابن ولید عن عبید اللہ ابن عمرو عن نافع عن ابن عمر عن عائشہروایت کی اور طبرانی نےعن محمد ابن عمرو عن ابی سلمہ عن ابی ھریرۃ عن عائشہروایت کی۔جب اتنی صحیح اسنادیں موجود ہیں تو حدیث صحیح ہے اور اس سے دلیل پکڑنا درست لہذا مذہب حنفی نہایت ہی قوی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2080