- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- حدیث نمبر 2079
باب:مختلف مضامین کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2079
روزے کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْح مَكَّةَ، جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَلَى يَسَارِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ، فَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ ناوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ!لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا: "أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا؟ " قَالَتْ: لَا. قَالَ: "فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَفِي رِوَايَةٍ لأَحْمَدَ وَالتِّرْمِذِيِّ نَحْوُهُ، وَفِيهِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَقَالَ: "الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
عن أم هانئ قالت: لما كان يوم الفتح فتح مكة، جاءت فاطمة فجلست على يسار رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم، وأم هانئ عن يمينه، فجاءت الوليدة بإناء فيه شراب، فناولته فشرب منه، ثم ناوله أم هانئ فشربت منه، فقالت: يا رسول الله!لقد أفطرت وكنت صائمة، فقال لها: "أكنت تقضين شيئا؟ " قالت: لا. قال: "فلا يضرك إن كان تطوعا". رواه أبو داود والترمذي والدارمي، وفي رواية لأحمد والترمذي نحوه، وفيه فقالت: يا رسول الله! أما إني كنت صائمة فقال: "الصائم المتطوع أمير نفسه، إن شاء صام وإن شاء أفطر".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ام ہانی سے فرماتی ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن ہوا تو حضر ت فاطمہ زہرا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھ گئیں اور ام ہانی حضور کے دائیں طرف تھیں ۱؎تو ایک لونڈی ایک برتن لائی جس میں شربت تھا حضور کو پیش کیا آپ نے اس سے پیا پھر ام ہانی کو دے دیا انہوں نے پیا۲؎پھر بولیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے روزہ توڑ لیا میں تو روزہ دارتھی ۳؎تو فرمایا کیا تم کوئی روزہ قضاءکررہی تھیں بولیں نہیں فرمایا اگر نفلی روزہ تھا تو تمہیں کچھ ضررنہیں ۴؎(ابوداؤد،ترمذی،دارمی)اور احمد و ترمذی کی روایت میں اسی کی مثل ہے اور اس میں یہ ہے کہ آپ بولیں یارسول اللہ میں روزہ دارتھی تو فرمایا نفلی روزہ دار اپنے نفس کا خود مختار ہے اگر چاہے روزہ پورا کرے اگر چاہے افطار کرلے۵؎
شرح حدیث
۱∞؎غالبًا مجلس کی یہ ترتیب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تھی کیونکہ ام ہانی فاطمہ زہرا کی نندبھی تھیں اور پھوپھی بھی،عمر میں بھی آپ سے بڑی تھیں اس لیے انہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں طرف بٹھالا اور ام ہانی کو دائیں طرف،اب بھی اجتماع کے موقع پر نشست گاہوں میں مرتبہ کے مطابق ترتیب چاہئیے۔ غالبًا یہ واقعہ ام ہانی کے اپنے گھر میں نہ ہوا بلکہ کسی دوسرے گھر میں ورنہ ام ہانی میزبانی کی خدمت خود انجام دیتیں۔خیال رہے کہ ام ہانی نے مکہ معظمہ سے ہجرت نہیں کی تھی۔
۲؎سنت یہ ہے کہ مجلس میں پانی وغیرہ کا برتن پہلے بزرگ کی خدمت میں پیش کیا جائے،پھر داہنی طرف کو دور چلے کہ اگرچہ اس طرف چھوٹا آدمی یا بچہ ہی ہو اور بائیں طرف بڑا مگر دیا جائے داہنی طرف ہی اور یہاں تو اتفاقًا داہنی جانب ام ہانی تھیں جو رشتہ اور عمر میں فاطمہ زہرا سی بڑی تھیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عزیز قرابت دار مرد و عورت ایک دوسرے کا جوٹھا پانی پی سکتے ہیں۔جن روایات میں ہے کہ عورت مرد کا جوٹھا نہ پئیے نہ مرد عوت کا وہاں اجنبی لوگ مراد ہیں لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔
۳؎سبحان الله! کیا عجیب عمل ہے کہ ام ہانی نے پہلے روزہ توڑا پھر مسئلہ پوچھا،ان کے نزدیک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا پس خوردہ تبرک پینا روزے سے افضل تھا،ان کے دل نے فتویٰ دیا کہ روزے کی قضاء یا کفارہ ادا کرلوں گی مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا پھر کہاں ملے گا،عشق کے رنگ نرالے ہیں۔شعر
نیست ایں باراں ازیں ابر شما
ہست باراں دیگر و دیگر سما
عشق کا مدرسہ ہی دوسرا ہے اور اس کے آسمان و زمین ہی کچھ اور۔
۴؎یعنی اگر یہ روزہ نذر یا قضائے رمضان وغیرہ تھا تب تو اس کا توڑنا منع تھا اور اگر محض نفلی تھا تو توڑنا بالکل جائز اگرچہ اس کی قضاء واجب۔اس سے معلوم ہوا کہ مرید یا شاگرد اپنے پیر یا استاد کے تبرک کھانے کے لیے نفلی روزہ توڑ سکتا ہے دعوت کی طرح یہ بھی روزہ توڑنے کا ایک عذر ہے۔
۵؎ان ظاہری الفاظ سے امام شافعی نے فرمایا کہ نفلی روزہ توڑ دینے سے قضاء واجب نہیں لیکن یہ دلیل ضعیف ہے کیونکہ یہاں گناہ کی نفی ہے نہ کہ قضاء کی۔قضاء کا حکم تو اگلی حدیث میں آرہا ہے۔اَمِیْرُ نَفْسِہٖکا مطلب یہ ہے کہ نفلی روزہ دار کسی موقعہ اورمحل پر افطار بہتر سمجھے تو توڑ سکتا ہے۔اس حدیث پر بڑا اعتراض یہ ہے کہ فتح مکہ رمضان میں ہوئی ام ہانی اس دن مسافر نہ تھیں ان پر روزہ رمضان فرض تھا نفلی روزہ نہ رکھ سکتی تھیں اس لیے ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد میں کچھ ضعف ہے،نسائی نے کہا کہ اس کی اسناد میں بہت اختلاف ہے،امام منذری فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں اور اگر صحیح ہو بھی تو یہاں فتح مکہ کے دن سے زمانہ فتح مکہ مراد ہے کیونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد مکہ میں عرصہ تک قیام فرمایا تھا لہذا یہ واقعہ ماہ رمضان کے بعد پیش آیا۔شیخ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے لیے مدینہ منورہ سے سفر رمضان میں ہوا مگر فتح بعد رمضان لیکن پہلی توجیہ قوی معلوم ہوتی ہے کیونکہ سارے مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ فتح مکہ بھی رمضان ہی میں ہوئی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2079