Main Icon

باب:مختلف مضامین کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2081

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَتْ لَهٗ بِطَعَامٍ، فَقَالَ لَهَا: "كُلِي"، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَة، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرَغُوا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن أم عمارة بنت كعب: أن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- دخل عليها فدعت له بطعام، فقال لها: "كلي"، فقالت: إني صائمة، فقال النبي -صلی اللہ عليه وسلم-: "إن الصائم إذا أكل عنده صلت عليه الملائكة حتى يفرغوا". رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام عمارہ بنت کعب سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے حضور کے لیے کھانا منگایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم بھی کھاؤ بولیں میں روزہ دار ہوں ۲؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب روزہ دار کے پاس کچھ کھایاجائے تو اسے فرشتے دعائیں دیتے ہیں جب تک کہ وہ فارغ ہوں ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام نسیبہ ابن کعب ابن عوف ہے،کنیت ام عمارہ،صحابیہ ہیں،انصاریہ ہیں،عاصم ابن زید کی بیوی ہیں،بیعت عقبہ اور بیعت رضوان میں حاضرتھیں،غزوہ احد میں آپ نے گیارہ زخم کھائے حتی کہ زخموں کی وجہ سے آپ کا ایک ہاتھ کاٹنا پڑا تھا رضی اللہ تعالٰی عنہا اس کے باوجود تمام غزووں میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں۔
۲
؎چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا انہوں نے نہ کھایا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ روزہ دار مہمان کی تواضع خاطر کھانے سے کرسکتاہے،ہاں رمضان میں روزہ توڑوں اور روزہ چوروں کو نہ کھانا کھلائے نہ ان کے لیے پکائے کہ یہ گناہ پر مدد ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوانِ"۔دوسرے یہ کہ اگر مہمان کی ناراضی کا اندیشہ نہ ہو تو میزبان نفلی روزہ نہ توڑے اور مہمان سے عذرکر دے۔
۳
؎کیونکہ یہ روزہ دار دو عبادتیں کررہا ہے ایک روزہ دوسرا کھاناکھاتے دیکھ کر صبر اس لیے اس کا اجروثواب بھی زیادہ ہے اور فرشتوں کی دعائیں نفع میں۔ظاہر یہ ہے کہ فرشتوں سے مراد اعمال لکھنے والے اور حفاظت کرنے والے فرشتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2081