Main Icon

باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5347

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم: "إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ، أَطَتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا فِيهَا مَوْضعُ أَرْبَعِ أَصَابعَ إِلَّا وملَكٌ وَاضعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كثِيرًا، وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ"قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَهْ.

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم: "إني أرى ما لا ترون، وأسمع ما لا تسمعون، أطت السماء وحق لها أن تئط، والذي نفسي بيده ما فيها موضع أربع أصابع إلا وملك واضع جبهته ساجدا لله، والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا، ولبكيتم كثيرا، وما تلذذتم بالنساء على الفرشات، ولخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله"قال أبو ذر: يا ليتني كنت شجرة تعضد. رواه أحمد والترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے ۱؎آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کا حق ہے کہ چرچرائے۲؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ نہ آسمانوں میں چار انگل جگہ ہے مگر فرشتہ وہاں اپنی پیشانی رکھے ہوئے اکو سجدہ کرتے ہوئے۳؎اکی قسم اگر تم وہ چیزیں جانتے جو میں جانتاہوں تو تم ہنستے تھوڑا روتے بہت اور بیویوں سے بستروں پر لذت حاصل نہ کرتے۴؎اور اکی پناہ لیتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاتے ۵؎ابوذر کہنے لگے ہائے کاش کہ میں درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۶؎(احمد،ترمذی، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہ غیبی چیزیں دیکھتی ہے اور حضور کے کان غیبی آوازیں سنتے ہیں،جس نگاہ سے اتعالٰی ہی نہ چھپا اس سے اور کیا چیز چھپے گی؎اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پر کروڑوں درودما لاترونمیںماعام ہے ہر غیبی چیز حضور پر ظاہر ہے۔
۲
؎اطتبنا ہےاطیطسے،اطیطکے معنی چرچرانا بھی ہے اور رونا بھی اور مطلقًا آواز بھی یہاں تینوں معنی بن سکتے ہیں۔فرشتوں کے بوجھ سے چرچرانا جیسے اونٹ کا بھرا ہوا پالان بوجھ سے چرچر کرتا ہے یا خوف الٰہی میں روتا ہے، فرشتوں کی تسبیح و تہلیل سن کر یا خود اکا ذکر اس کی تسبیح و تہلیل کرتا ہے فرشتوں کے ساتھ۔(مرقات،اشعہ)غرض کہ آسمان آواز ضرور کررہا ہے اس لیے اس کے لیے سننا فرمایا گیا کہ میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان کی یہ آواز میں سن رہا ہوں۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں سجدہ کرنے والے فرشتوں کی کثرت کا ذکر ہے کہ آسمان کا ایک چپہ فرشتے کی پیشانی سے خالی نہیں،رکوع، قیام، قعود والے فرشتے ان کے سواء ہیں،رب تعالٰی نے فرشتوں کا قول نقل فرمایا:"مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوۡمٌ"سجدہ والوں کی جگہ اور ہے رکوع،قیام والوں کی جگہ اور۔
۴
؎اس سے حضور کے تحمل و برداشت کا پتہ لگتا ہے کہ حضور یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے پھر بھی دنیا و دین دونوں سنبھالے ہوئے ہیں۔
۵
؎صعداتجمع ہےصعیدکی بمعنی زمین کی ظاہری مٹی،اس سے مراد ہے جنگل جہاں سفیدہ زمین اور مٹی ہی ہوتی ہے مکان پہاڑ وغیرہ نہیں ہوتے یعنی تم خوف و ڈر کی وجہ سے آبادیوں میں رہنا،آرام کرنا بھول جاتے،جنگلوں میں چیختےروتے پھرتے،منزلیں بہت بھاری ہیں۔
۶
؎درد ناک تمنا راوی حدیث حضرت ابوذر کی ہے،بعض صحابہ فرماتے تھے کہ کاش میں جانور ہوتا جسے ذبح کرکے کھالیا جاتا،بعض فرماتے تھے کاش میں چڑیا ہوتا کہ جہاں چاہتا بیٹھتا۔مطلب یہ ہے کہ میں انسان نہ ہوتا جو احکام کے مکلف ہیں اور گناہ کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں کا خوف ہے جن کے جنتی ہونے کی خبر قرآن کریم اور صاحب قرآن نے دے دی ہے۔اب سوچو! کہ ہم کس شمار میں ہیں،بات یہ ہے کہ جتنا قرب زیادہ اتنا ہی خوف زیادہ،ااپنا خوف عطا کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5347