Main Icon

باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5353

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَن أبي جُحَيْفَة قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شِبْتَ، قَالَ: "شَيَّبَتْنِي سُورَةُ هُودٍ وَأَخَوَاتُهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي جحيفة قال: قالوا: يا رسول الله قد شبت، قال: "شيبتني سورة هود وأخواتها". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو جحیفہ سے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یارسول اللہ آپ بوڑھے ہوگئے ۱؎فرمایا مجھے سورۂ ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ حضور پر ضعف کے آثار نمودار ہیں حتی کہ اکثر نماز بھی بیٹھ کر پڑھتے ہیں،یہ مطلب نہیں کہ آپ کے بال سفید یا نگاہ کمزور ہوگئی کیونکہ حضور انور کے سر مبارک داڑھی شریف اور ریش شریف میں بیس سے کم بال سفید تھے۔(ازمرقات)حتی کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے شمار کی ہے آپ کے کل چودہ بال سفید تھے۔(مرقات) بعض روایات میں ہے کہ چودہ بال سر شریف میں،پانچ بال داڑھی میں،ایک بال ریش بچی میں۔
۲
؎یعنی جن سورتوں میں عذاب الٰہی کا ذکر ہے ان کے عذاب سے مجھے اپنی امت پر خوف ان کی فکر اس قدر ہے کہ اس فکر نے مجھے بوڑھا کردیا۔ایک بزرگ نے خواب میں حضور کی زیارت کی یہ ہی حدیث پیش کی،فرمایاحدیث صحیح ہے ہم نے یہ فرمایا ہے اس نے پوچھا کون سی آیت نے حضور کو بوڑھا کیا،فرمایا"فَاسْتَقِمْ کَمَاۤ اُمِرْتَ وَمَنۡ تَابَ مَعَکَ"۔(مرقات)امت کی استقامت بڑی مشکل چیز ہے جس کی فکر حضور کو ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5353