Main Icon

باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5348

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ خَافَ أَدْلَجَ، وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ غَالِيَةٌ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ الْجَنَّةُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من خاف أدلج، ومن أدلج بلغ المنزل، ألا إن سلعة الله غالية، ألا إن سلعة الله الجنة". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو ڈرتا ہے وہ اندھیرے اٹھاتا ہے،جو اندھیرے اٹھاتا ہے وہ منزل پر پہونچ جاتا ہے ۱؎خبردار اللہ کا سودا مہنگا ہےخبردار اکا سودا جنت ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو دشمن کے شب خون مارنے کا اندیشہ کرتا ہے وہ جنگل میں رات غفلت سے نہیں گزارتا ورنہ مارا جاتا ہے،لٹ جاتا ہے۔شیطان شب خون مارنے والا دشمن ہے،ہم دنیا میں راہِ آخرت طے کرنے والے مسافر ،ایمان کی دولت ہمارے پاس ہے یہاں غفلت نہ کرو ورنہ لٹ جاؤ گے۔
۲
؎اس فرمان عالی میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے"اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمْ وَ اَمْوٰلَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ"۔ جنت سودا ہے رب تعالٰی فروخت فرمانے والا ہے،ہم خریدار ہیں ہمارے مال جان اس سودے کی قیمت ہے،اس کا عکس یہ ہے کہ اللہ تعالٰی خریدار ہے ہمارے جان و مال سودے ہیں جنت اس کی قیمت ہے، اگر جان دے کر بھی یہ سودا مل جاوے تو سستا ہے مگر ہمارا حال یہ ہے؎وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا ہم مفلس کیا مول چکائیں ہاتھ ہی اپنا خالی ہے
ا
تعالٰی ہم محتاجوں کو اپنے محبوب کے نام کی خیرات دیدے فقیروں بھکاریوں سے قیمت نہیں مانگی جاتی اس پر ہر کرم کریمانہ ہوتا ہے؎چہ باشدکہ مشتے گدایان خیل بیایند دار السلام ازطفیل
یعنی یارسول اللہ اگر ہم جیسے مٹھی بھر فقیر آپ کے طفیل جنت میں پہنچ جاویں تو تمہارا کیا بگڑتا ہے ہمارا بھلا ہوجاوے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5348