Main Icon

باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5350

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَنْ هَذِهِ الآيَةِ: وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ؟ قَالَ: "لَا يَا ابِنْتَ الصِّدِّيقِ، وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُمْ، أُولَئِكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَهْ.

وعن عائشة قالت: سألت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن هذه الآية: والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة أهم الذين يشربون الخمر ويسرقون؟ قال: "لا يا ابنت الصديق، ولكنهم الذين يصومون ويصلون ويتصدقون وهم يخافون أن لا يقبل منهم، أولئك الذين يسارعون في الخيرات". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس آیت کریمہ کے متعلق پوچھا کہ وہ لوگ کہ جو کچھ کریں ان کے دل ڈرتے کیا وہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں ۱؎فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی۲؎لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے نمازیں پڑھتے اور صدقات دیتے ہیں اور وہ ڈرتے ہیں کہ ان کا عمل قبول نہ ہو۳؎یہ لوگ بھلائیوں سے جلدی کرتے ہیں۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یؤتونایتانسے بھی بن سکتا ہےبمعنی آنا،لانا کرنا اورایتاءسے بھی بمعنی دینا خیرات کرنا۔حضرت اُم المؤمنین کا یہ سوال شریف اسی بنا پر ہے کہ وہیؤتونکوایتانسے بنا رہی ہیں اور مطلب یہ قرار دیتی ہیں کہ وہ لوگ جو کرتے ہیں کام رب سے ڈرتے ہوئے، کام سے برے کام مراد لیتی ہیں۔(لمعات)یعنی جو برے کام کرتے ہیں رب سے ڈرتے ہوئے لہذا خوفِ خدا گناہ کے وقت چاہیے۔
۲
؎جواب شریف کا مطلب ہے کہیؤتونمیں دونوں احتمال ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے جنت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
۳
؎یعنی یہاںیؤتونبنا ہےایتانبمعنی لانے کرنے سے مگر اس سے مراد ہے نیک عمل بدنی ہو یا مالی یعنی جو نیک کام کرتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں کہ شاید قبول نہ ہو۔
۴
؎مطلب یہ ہے کہ عبارت"اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ"الخ بتارہی ہے کہ یہاں نیک اعمال مراد ہیں کہ وہ لوگ اس خوف کی وجہ سے نیکیاں زیادہ کرتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ متقی لوگ وہ ہیں جو گناہ نہیں کرتے ہیں اور ساتھ ہی ڈرتے ہیں۔کرنا اور ڈرنا ان کی صفت نہ کرنا اور اکڑنا فساق کا کام ہے؎زاہداں از گناہ توبہ کنند عارفاں از عبادت استغفار

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5350