باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5343
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْخَزَّوَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ، وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ، يَأْتِيهِمْ رَجُلٌ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُونَ: ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا، فَيُبَيِّتُهُمُ اللَّهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي بَعْضِ نُسَخِ "الْمَصَابِيحِ": "الْحِرَ" بِالْحَاءِ وَالرَّاءِ الْمُهْمَلَتَيْنِ، وَهُوَ تَصْحِيفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ بِالْخَاءِ وَالزَّاي الْمُعْجَمَتَيْنِ نَصَّ عَلَيْهِ الْحُمَيْدِيُّ وَابْنُ الأَثِيرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ،وَفَي كِتَابِ "الْحُمَيْدِيِّ" عَنِ الْبُخَارِيِّ وَكَذَا فِي "شَرحه" للخطابي: "تَرُوحُ سَارِحَةٌ لَهُمْ يَأْتِيهِمْ لحِاجَةٍ".
وعن أبي عامر أو أبي مالك الأشعري قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الخزوالحرير والخمر والمعازف، ولينزلن أقوام إلى جنب علم يروح عليهم بسارحة لهم، يأتيهم رجل لحاجة فيقولون: ارجع إلينا غدا، فيبيتهم الله ويضع العلم ويمسخ آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة". رواه البخاري. وفي بعض نسخ "المصابيح": "الحر" بالحاء والراء المهملتين، وهو تصحيف، وإنما هو بالخاء والزاي المعجمتين نص عليه الحميدي وابن الأثير في هذا الحديث،وفي كتاب "الحميدي" عن البخاري وكذا في "شرحه" للخطابي: "تروح سارحة لهم يأتيهم لحاجة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے ابو عامر سے یا ابو مالک اشعری سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میری امت میں وہ قومیں ہوں گی جو موٹے پتلے ریشم ۲؎اور شراب باجوں کو حلال سمجھ لیں گی۳؎اور کچھ قومیں ایک پہاڑی کے برابر اوتریں گی جب ان پر ان کے جانور آئیں گے۴؎ان کے پاس ایک شخص کسی کام کے لیے آئے گا وہ کہیں گے ہمارے پاس کل لوٹ کر آنا ۵؎پھر اﷲانہیں رات میں ہلاک کردے گا اور پہاڑگرادے گا۶؎اور دوسروں کو بندر سؤروں میں مسخ کردے گا۷؎قیامت کے دن تک ۸؎(بخاری) اور مصابیح کے بعض نسخوں میں ہےحرہے بے نقطہ ہے اور رے سے ۹؎یہ غلط ہے وہ خ اور ز نقطہ والے سے ہے،اس کی اسی حدیث میں حمیدی اور ابن اثیر نے تصریح کی اور کتاب حمیدی میں ہے ۱۰؎بخاری سے اور یوں ہی خطابی نے شرح بخاری میں کہاتروح علیہم سارحۃ لہمیاتیھم لحاجۃ۱۱؎
شرح حدیث
۱∞؎ابو عامر اشعری حضرت ابو موسیٰ اشعری کے چچا ہیں،صحابی ہیں،غزوہ حنین میں شہید ہوئے اور ابو مالک اشجعی بھی کہتے ہیں یہ بھی صحابی ہیں،چونکہ سارے صحابہ عادل ہیں اس لیے ان کے نام میں تردد سے حدیث کی صحت پر اثر نہیں پڑتا۔
۲؎خزموٹا ریشم،حریرباریک ریشم،مرد کے لیے دونوں حرام ہیں۔
۳؎معازفبنا ہےعزفسے بمعنی جنات کی یا ہوا کی آواز،اصطلاح میں باجوں کی آواز کو یا اس آواز کو جس کے ذریعہ سے انسانی آواز کو اچھا بنایا جاوے معازف یا ملاہی کہتے ہیں۔یعنی میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ان محرمات کو حلال ہی جان لیں گے،یا حلال کی طرح بے دھڑک استعمال کریں گے،یا ان چیزوں کی حلت کے لیے تاویلیں کریں گے مثلًا کہیں گے کہ ریشم اگر جسم سے متصل ہو تو حرام ہے ورنہ نہیں،ہم نے کرتا سوتی پہنا ہے اوپر سے اچکن ریشمی ہے،یا کہیں گے کہ باجے وغیرہ قوالی میں حلال ہیں مجازی عشق کے لیے باجے حرام ہیں ہم تو اﷲرسول کے عشق کے لیے سنتے ہیں وغیرہ۔(مرقات)
۴؎یعنی یہ لوگ بڑے امیر ہوں گے،پہاڑوں پر اپنی کوٹھیاں بنائیں گے،ان کے پاس بہت نوکر جانور ہوں گے،ان کے نوکر دن بھر انکے جانور چرا کر شام کو واپس لایا کریں گے۔
۵؎یعنی یہ لوگ نکمے اور کنجوس و بخیل ہوں گے کہ ان کے پاس کوئی حاجت مند اپنی حاجت کے لیے آوے گا تو اسے ٹالنے کے لیے کہہ دیں گے کہ کل آنا۔
۶؎یعنی رات میں ان پر غیبی آواز آجاوے گی جس سے ان کے بعض لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور بعض پر یہ ہی پہاڑ گر پڑے گا جس سے دب کر یہ لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور بعض کا وہ حال ہوگا جو آگے مذکور ہے۔غرضکہ لوگ تین حصہ ہوکر عذاب الٰہی میں گرفتار ہوں گے۔
۷؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور کی امت کے کچھ لوگوں پر قریب قیامت غیبی عذاب بھی آئیں گے اور کچھ لوگ بندر سؤر بھی بنیں گے۔ جہاں ارشاد ہے کہ اس امت پر عذاب نہ آوے گا وہاں عام عذاب مراد ہے۔
۸؎اس لفظ کے تین مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ وہ لوگ روز قیامت تک اس عذاب میں مبتلا رہیں گے،یہ عذاب عارضی نہ ہوگا دائمی ہوگا یعنی اس کا تعلق مسخ سے نہیں عذاب سے ہے۔دوسرے یہ کہ وہ لوگ قیامت کے دن اسی مسخ شدہ صورت میں اٹھیں گے بندروں سؤروں کی شکل میں یا قیامت سے مراد ان کی موت کا دن ہے کہ موت بھی ایک طرح کی قیامت ہی ہے یعنی وہ لوگ مرتے دم تک بندر سؤر رہیں گے لہذا حدیث ظاہر ہے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگ قیامت تک زندہ رہیں اور بندر سؤر بنے رہیں گے۔
۹؎حرح کے کسرہ اور ر کے سکون سے بمعنی فرج یعنی زنا کو حلال سمجھ لیں گے کہ بے د ھڑک زنا کریں گے،ان کے نزدیک زنا عیب ہی نہ ہوگا۔
۱۰؎مگر شیخ ابن حجر نے فرمایا کہ بخاری کے بعض نسخوں میںخزخ کے کسرہ اور زکے سکون سے ہے۔معلوم ہوا کہ دونوں لفظ حدیث میں وارد ہیں۔(اشعہ)آج کل یہ عیوب مسلمانوں کے امیر گھرانوں میں پہنچ رہے ہیں۔
۱۱؎یعنی اس روایت میںبسارحۃب کے ساتھ نہیں ہے صرفسارحۃہے،مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔سارحۃوہ جانور جو جنگل میں چرنے جائیں۔یہاں بھییاتیہمکا فاعلرجلمحتاج ہے،مطلب وہ ہی ہے کہ ان کے پاس کوئی محتاج آدمی اپنی حاجت لے کر آوے۔اس حدیث میں اس قوم کی تین صفات بیان ہوئیں: وہ بنگلوں کوٹھیوں کے مالک ہوں گے،ان کے پاس دودھ وغیرہ کے جانور بہت ہوں گے جنہیں جنگل میں چرانے کے لیے ان کے نوکر چاکر لے جایا کریں گے،وہ بڑے بخیل و کنجوس ہوں گے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5343