Main Icon

باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5356

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ؛ فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ طَالِبًا". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ والْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن عائشة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "يا عائشة إياك ومحقرات الذنوب؛ فإن لها من الله طالبا". رواه ابن ماجه والدارمي والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے عائشہ تم حقیرو معمولی گناہوں سے بچی رہو ۱؎کہ ان کے متعلق بھی اکی طرف سے مطالبہ کرنے والا ہے ۲؎(ابن ماجہ، دارمی،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی صرف گناہ کبیرہ سے بچنے پر کفایت نہ کرو بلکہ گناہ صغیرہ سے بھی بچتے رہو،اگر ہوجاویں تو ان کے کفارہ کے لیے نیک اعمال کرو اور جلد توبہ کرلو۔خیال رہے کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنا گناہ کبیرہ ہے،شیطان اولًا چھوٹے گناہ کراتا ہے پھر بڑے گناہوں میں لگادیتا ہے،پھر عقیدے خراب کرتا ہے۔سنتیں بلکہ مستحبات ایمان کے خزانہ کی پہلی دیوار ہے یہاں ہی شریعت کا پہرا رکھو۔
۲
؎طالب سے مراد یا اعمال لکھنے والا فرشتہ ہے یعنی چھوٹے گناہوں کی بھی تحریر ہورہی ہے یا قیامت میں باز پرس کرنے والا فرشتہ جو رب تعالٰی کی طرف سے اس پر مقرر ہے یا اس سے مراد ہے عذاب الٰہی جو گنہگاروں کے پیچھے لگا ہوا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ کوئی گناہ چھوٹا سمجھ کر کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر جلا دیتی ہے اور کوئی نیکی چھوٹی سمجھ کر چھوڑ نہ دو کہ کبھی ایک قطرہ پانی جان بچالیتا ہے،نہایت ہی اعلٰی تعلیم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5356