Main Icon

باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5357

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ: يَا بَا مُوسَى هَلْ يَسُرُّكَ أَنَّ إِسْلَامَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَهِجْرَتَنَا مَعَهُ وَجِهَادَنَا مَعَهُ وَعَمَلَنَا كُلَّهُ مَعَهُ بَرَدَ لَنَا؟ وَأَنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ؟ فَقَالَ أَبُوكَ لِأَبِي: لَا وَاللَّهِ، قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، وَصَلَّيْنَا وَصُمْنَا، وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا بَشَرٌ كَثِيرٌ، وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِكَ، قَالَ أَبِي: وَلَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَاكَ وَاللَّهِ كَانَ خيرًا من أبي. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي بردة بن أبي موسى قال: قال لي عبد الله بن عمر: هل تدري ما قال أبي لأبيك؟ قال: قلت: لا، قال: فإن أبي قال لأبيك: يا با موسى هل يسرك أن إسلامنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وهجرتنا معه وجهادنا معه وعملنا كله معه برد لنا؟ وأن كل عمل عملناه بعده نجونا منه كفافا رأسا برأس؟ فقال أبوك لأبي: لا والله، قد جاهدنا بعد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وصلينا وصمنا، وعملنا خيرا كثيرا، وأسلم على أيدينا بشر كثير، وإنا لنرجو ذلك، قال أبي: ولكني أنا والذي نفس عمر بيده لوددت أن ذلك برد لنا، وأن كل شيء عملناه بعده نجونا منه كفافا رأسا برأس، فقلت: إن أباك والله كان خيرا من أبي. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو بردہ ابن ابو موسیٰ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھ سے عبداابن عمر نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کیا کہا تھا ۲؎میں نے عرض کیا نہیں،فرمایا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے فرمایا کہ اے ابو موسیٰ کیا تم کو یہ پسند ہے کہ ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہجرت کرنا آپ کے ساتھ جہاد کرنا اور حضور کے ساتھ ہمارے سارے اعمال جو ثابت ہوئے اور یہ کہ ہر کام جو ہم نے حضور کے بعد کئے ہم اس سے نجات پاجائیں پورا پورا ۳؎تو تمہارے والد نے میرے والد سے کہا نہیں واللہ۴؎ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد جہاد کیے اور نمازیں پڑھیں،روزے رکھے اور سب سے اچھے عمل کیے اور ہمارے ہاتھوں پر بہت لوگ ایما ن لائے اور ہم ان کی امید رکھتے ہیں ۵؎میرے والد نے کہا کہ لیکن میں تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے کہ میں تو تمنا کرتاہوں۶؎کہ یہ سب کچھ ہمارے لیے ثابت اور یہ کہ ہم نے اس کے بعد جو کام کیے ہیں۷؎ان سے نجات پاجائیں برابر سر بہ سر ۸؎تو میں نے کہا یقینًا تمہارے باپ اکی قسم میرے باپ سے بہتر تھے ۹؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عامر ابن عبداابن قیس اشعری ہیں،مشہور تابعین سے ہیں،اپنے والد اور حضرت علی سے ملاقات کی،قاضی شریح کے بعد آپ ہی کوفے کے قاضی ہوئے،حجاج نے آپ کو معزول کیا۔
۲
؎یعنی ایک دفعہ حضرت عمر فاروق اور حضرت ابو موسیٰ اشعری آپس میں باتیں کررہے تھے کہ دوران گفتگو میں کیا بات چیت ہوئی تھی کیا تمہیں خبر ہے کہ اس وقت حضرت عمر فاروق پر خوف الٰہی کا دریا موجیں مار رہا تھا اس حال میں آپ نے یہ فرمایا۔
۳
؎یعنی ہم نے کچھ نیک اعمال تو حضور انور کی موجودگی میں کیے اور کچھ نیک اعمال حضور کے بعد،اگر یہ تمام نیکیاں مل کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جاویں کہ ہم کو ثواب ملے نہ ہم کو عذاب تو کیا تم اس پر راضی ہو۔خیال رہے کہبردماضی ہےبرودۃکا بمعنی ٹھنڈک۔حدیث شریف میں سردی کے روزوں کو غنیمت باردہ فرمایا گیا۔بردکے معنی ہوئے نیک اعمال ہمارے لیے ٹھنڈک ہوگئے یعنی ضبط نہ ہوئے باقی رہے۔حضرت عمر جیسی ہستی کے اعمال حضور کے زمانہ میں اور بعد میں کتنے ہیں جیسے آسمان کے تارے کہ نہ تاروں کی شمار ہے نہ حضرت عمر کی نیکیوں کی شمار ان کا یہ فرمان ہے،بولو اب ہم کس شمار میں ہیں۔
۴
؎یعنی ہم اس کفاف ہوجانے پر راضی نہیں،حضرت ابو موسیٰ پر امید کا غلبہ ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رب تعالٰی کے اس فیصلہ پر راضی نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر رب تعالٰی ہم سے یہ پوچھے تو ہم راضی نہ ہوں ہم عرض کریں کہ مولٰی ہم کو بڑا اجر دے ہم پر بڑا فضل کر؎خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
۵
؎بندے پر بعض وقت ایسے آتے ہیں کہ رب تعالٰی بندے کی رضا چاہتا ہے"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَفَتَرْضٰی∞"اور حضرت ابوبکر صدیق کے لیے فرماتا ہے:"وَ لَسَوْفَیَرْضٰی∞"۔
۶
؎یعنی اے ابو موسیٰ تمہاری امید کا یہ حال ہے اور میرے خوف کا یہ عالم ہے کہ میں تو یہ ہی غنیمت سمجھتا ہوں۔
۷
؎یعنی جو عبادات اور جہاد وغیرہ ہم نے حضور انور کے زمانہ میں کیے اور جو کچھ بعد میں کیے یہ سب ملا لئے جاویں۔
۸
؎یہ سارے اعمال ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جاویں کہ ہم کو اللہ کے عذاب سے نجات مل جاوے نہ جنت ملے نہ دوزخ۔
۹
؎اس عبارت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اس معاملہ میں آپ کے والد حضرت عمر میرے والد حضرت ابو موسیٰ سے بہتر تھے کہ ان پر خوف الٰہی کا غلبہ تھا اور میرے والد پر امید کا غلبہ،خوف امید سے افضل ہے کہ خوف ہی سے انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ اکبر آپ کے والد تو میرے والد سے کہیں بہتر تھے کہ وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے،خلیفۃ المسلمین،غازی اسلام، فاتح بلدان تھے پھر انکے خوف و خشیت کا یہ حال تھا تو ہم لوگ کس شمار میں ہیں۔خیال رہے کہ بندہ کو رب سے جتنا قرب زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی خوف زیادہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّمَایَخْشَیα اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا"حضور فرماتے ہیںانا اعلمکم بالله و اخشاکم۔اللہ تعالٰی حضرت فاروق اعظم کے صدقہ میں ہم کو اپنا خوف دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5357