Main Icon

باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5344

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا أنزل الله بقوم عذابا أصاب العذاب من كان فيهم ثم بعثوا على أعمالهم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب اکسی قوم پر عذاب اوتارتا ہے ان سب پر عذاب بھیج دیتا ہے جو ان میں ہوں ۱؎پھر اپنے اعمال کے اٹھائے جائیں گے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو صرف گنہگاروں پر ہی نہیں آتا بلکہ گنہگار نیک کار جو بھی وہاں ہوں سب پر آتا ہے،جب چکی چلتی ہے تو گندم اور اس میں رہنے والے گھن سب کو ہی پیس ڈالتی ہے۔خیال رہے کہ یہ قانون کلی نہیں ہےکبھی نیکوں کو بچا بھی لیا جاتا ہے،کبھی وہاں سے نیکوں کو نکال دیا جاتا ہے،رب فرماتاہے:"فَاَخْرَجْنَا مَنۡ کَانَ فِیۡہَا مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ
۲
؎یعنی ان بے قصور نیک لوگوں کو کل قیامت میں اس تکلیف کی جزا دے دی جاوے گی جو انہیں بے قصور پہنچ گئی جیسے باغیوں کی بستیوں پر حکومت بم باری کرے جس سے حکومت کے وفاداروں کےمکانات جائیداد بھی تباہ ہوجاویں تو انہیں ان کا معاوضہ دے دیا جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5344