Main Icon

باب : رونے اور ڈرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5351

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُبَيِّ ابْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ اذْكُرُوا اللَّهَ، جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي ابن كعب قال: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا ذهب ثلثا الليل قام فقال: "يا أيها الناس اذكروا الله اذكروا الله، جاءت الراجفة تتبعها الرادفة، جاء الموت بما فيه، جاء الموت بما فيه". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کے دو تہائی حصےگزر جاتے تو اٹھتے فرماتے اے لوگو اکا ذکر کرو اکا ذکر کرو ۱؎دینے والی چیز آن پہونچی جس سے متصل پیچھے آنے والی آپہونچی۲؎موت آپہونچی موت آپہنچی مع ان تکالیف کے جو اس میں ہے۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس واقعہ سے تین مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ تہجد کے لیے دو تہائی رات کے بعد اٹھنا چاہیے اس سے پہلے نہیں۔ دوسرے یہ کہ اپنے خاص خدام خاص گھر والوں کو بھی جگانا چاہیے۔تیسرے یہ کہ اس وقت عبادت کی ترغیب کے لیے انہیں ڈرانا یا اللہ کی رحمت سے امید دلانا بہت اچھا ہے۔
۲
؎راجفۃسے مراد ہے قیامت کا پہلا نفخہ،چونکہ اس نفخہ سے زمین میں سخت زلزلہ پڑ جاوے گا اوررادفۃسے مراد ہے دوسرا نفخہ جس سے مردے جی اٹھیں گے یعنی قیامت قریب ہے جو کرنا ہے کرلو۔
۳
؎موت ہرشخص کی چھوٹی قیامت ہے اور بڑی قیامت کی دلیل اس کی تکالیف بیان سے باہر ہیں۔مطلب یہ ہے کہ موت سر پر کھڑی ہے اعمال میں جلدی کرو۔اعلٰی حضرت قدس سرہ نے فرمایا؎اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5351