Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3793

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلْمَانَ الفَارِسِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهٖ، وَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِيْ كَانَ يَعْمَلُهٗ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ وَأَمِنَ الْفتَّانَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن سلمان الفارسي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "رباط يوم وليلة في سبيل الله خير من صيام شهر وقيامه، وإن مات جرى عليه عمله الذي كان يعمله، وأجري عليه رزقه وأمن الفتان". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہکی راہ میں ایک دن رات گھوڑا پالنا ایک مہینہ کے روزوں ونمازوں سے بہتر ہے ۱؎اور اگر مرجاوے تو اس کا وہ عمل جو کرتا تھا جاری رہے گا ۲؎اور اس پر اس کا رزق بہایا جائے گا ۳؎اور فتنوں سے امن میں رہے گا۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ جہاد کی یہ تیاری رباط میں داخل ہے فی زمانہ بندوق توپ چلانے کی مشق،موٹر کار،ٹینک،ہوائی جہاز کی بمباری سیکھنا سب رباط ہے جب کہ جہاد کی نیت سے ہو،ایک ماہ کے روزے نماز کا ذکر یہاں کثرت کے لیے ہے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زیادہ کا ذکر ہے،یا مجاہد و مرابط کا جیسااخلاص ویسا ثواب۔
۲
؎سبحان اﷲ!کیا کرم نوازی ہے کہ مرابط جو جو نیکیاں زندگی میں کرتا تھا ان سب کا ثواب قیامت تک اسے پہنچتا رہتا ہے اس کا ہر عمل جاری بن جاتا ہے۔
۳
؎یعنی شہید کی طرح اسے بھی قبر میں ہمیشہ جنتی رزق ملتا رہے گا،رب تعالٰی فرماتاہے:"یُرْزَقُوْنَۙ(۱۶۹) فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ
۴
؎امنمعروف ہے یا مجہول اورفتانیا نون کے فتحہ سے ہے،فتنہ کا مبالغہ یا ف کے ضمہ سے فاتن بمعنی فتنہ گر کی جمع یعنیکی راہ میں مرابط بڑے فتنہ سے یا فتنہ گری سے محفوظ رہے گا یا محفوظ رکھا جائے گا،بڑے فتنہ سے مراد حساب قبر کا فتنہ و آزمائش ہے اور فتنہ گری یعنی آزمائش کرنے والوں سے مراد عذاب کے فرشتے،منکر نکیر یا دجال اور شیطان ہیں۔مرابط حساب قبر عذاب قبر سے بھی محفوظ ہے،دوزخ کی آگ اور وہاں کے ملائکہ کے عذاب سے امن میں رہے گا،نیز شیطان اور اگر اس کی زندگی میں دجال نکلے تو اس کے شر سے محفوظ رہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ مجاہد اور مرابط سے حساب قبر بھی نہیں ہوگا اور تنگی قبر و حساب قبر سے محفوظ رہے گا،اس فقہی فرمان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3793