Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3814

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهٗ، فَمَنْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ؟ قَالَ: "مَنْ قَاتَلَ لِتَكُوْنَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه"مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي موسى قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: الرجل يقاتل للمغنم، والرجل يقاتل للذكر، والرجل يقاتل ليرى مكانه، فمن في سبيل الله؟ قال: "من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله"متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ ایک شخص غنیمت کے لیے جہاد کرتا ہے ۱؎اور ایک شخص اپنی شہرت چرچے کے لیے ۲؎اور ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کا درجہ دیکھا جاوے ۳؎توکی راہ میں مجاہد کون ہے فرمایا وہ ہے جو صرف اس لیے جہاد کرے کہتعالٰی کا کلمہ بلند ہوجائے۴؎وہکی راہ میں مجاہد ہے۔ (مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی صرف مال غنیمت حاصل کرنے یا ملک جیتنے اور وہاں راج کرنے کی نیت سے جہاد کرتا ہے،رضاءالٰہی کی نیت نہیں کرتا جیسا کہ آج کل عمومًا جنگ کے وقت ملک وقوم کی خدمت کا نام لیتے ہیں،اکے دین کی خدمت کا ذکر تک نہیں کرتے اس لیے بچنا چاہیے۔
۲
؎یعنی صرف اس لیے جہاد کرتا ہے کہ لوگوں میں اس کی بہادری کا چرچا ہو اور اسے شہرت و عزت حاصل ہو،کفار کو اپنی شجاعت دکھانا ان کے مقابل اپنی شان و بہادری بیان کرنا عبادت ہے۔
۳
؎لیریکی تین قرأتیں ہیں:باب فتح کا مضارع مجہول،باب افعال کا مضارع معروف اور باب فتح کا مضارع معروف یعنی تاکہ اس کا درجہ دیکھا جاوے یا لوگوں کو اپنا درجہ شجاعت دکھائے مسلمانوں کو یا تاکہ وہ اپنی جنت کی جگہ دیکھ لے یعنی صرف جنت حاصل کرنے کے لیے جہاد کرتا ہے۔(مرقات و اشعہ) تیسرے معنی صوفیانہ ہیں۔صوفیاء کے نزدیک جنت حاصل کرنے یا دوزخ سے بچنے کے لیے بھی عبادت نہ کی جائے،صرف جنت والے رب کو راضی کرنے کے لیے عبادت کرنی چاہیے،جب وہ راضی ہوگیا تو سب کچھ مل جائے گا۔
۴
؎کلمۃاسے مراد کلمہ طیبہلا الہ الا اﷲہے یعنی اسلام کی اشاعت کرنے اور کفر کا زور توڑنے کے لیے جہاد ہو۔خیال رہے کہ خدمت دین کے ساتھ غنیمت کی نیت بھی ہونا مضر نہیں مگر کمال اس میں ہے کہ خالص خدمت دین کی نیت ہو غنیمت بلکہ جنت حاصل کرنے کا بھی ارادہ نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3814