Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3803

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يُرْجَعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهٗ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيْدُ يَتَمَنَّى أَنْ يُرْجَعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما من أحد يدخل الجنة يحب أن يرجع إلى الدنيا وله ما في الأرض من شيء إلا الشهيد يتمنى أن يرجع إلى الدنيا فيقتل عشر مرات، لما يرى من الكرامة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایسا کوئی نہیں جو جنت میں داخل کیا جاوے ۱؎پھر وہ دنیا میں لوٹنا پسندکرے اگرچہ دنیا کی ہر چیز اسے ملے ۲؎سوائے شہید کے کہ وہ آرزو کرتا ہے کہ دنیا میں لوٹا یا جائے پھر قتل کیا جائے دس بار۳؎کیونکہ وہ احترام دیکھتا ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں روحانی داخلہ مراد ہے جو بعض مؤمنوں کو مرتے ہی نصیب ہوجاتا ہے،جسمانی داخلہ بعد قیامت ہوگا جب دنیا ختم ہوچکی ہوگی لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔خیال رہے کہ عام مؤمنین کی قبروں میں جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے جس سے وہاں کی ہوائیں،خوشبوئیں وغیرہ آتی رہتی ہیں شہداء وغیرہ کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں جنت میں داخل ہوجاتی ہیں بعد قیامت اس جسم کے ساتھ جنت میں داخلہ ہوگا۔(ان شاءاﷲ تعالٰی)
۲
؎کیونکہ دنیا آفات کی جگہ ہے،اگرچہ دنیا میں کسی کو بہت زیادہ آرام ملے مگر وہ سب آرام اس آرام کے مقابل تکالیف ہیں،جیل کا اے کلاس بھی گھر کی آزادی گھر کے آرام کے مقابل ہیچ ہے۔
۳
؎دس بار سے مراد کئی بار ہے،یعنی شہید تمنا کرے گا کہ پھر مجھے دنیا میں بھیج کر شہادت کا موقعہ دیا جائے،جو مزہ راہ ِ خدا (عزوجل) میں سر کٹانے میں آیا وہ کسی چیز میں نہ آیا۔
۴
؎ظاہر یہ ہے کہ کرامت سے مراد اخروی عزت و حرمت ہے یعنی وہ سوچے گا کہ جب ایک دفعہ شہید ہونے سے مجھے اتنی عزت ملی تو بار بار شہید ہونے سے کتنی عزت ملے گی اور ہوسکتا ہے کہ کرامت سے مراد وہ لذت ہو جو اسے راہِ خد ا(عزوجل) میں سرکٹانے سے ہوئی ہو،عبادت میں بھی لذت ہے،جسےکے بندے محسوس کرتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3803