Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3834

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيْ كَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلشَّهِيْدِ عِنْدَ اللّٰهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهٗ فِيْ أَوَّلِ دفعةٍ وَيَرٰى مَقْعَدَهٗ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُوْضَعُ عَلٰى رَأْسِهٖ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوْتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا وَيُزَوَّجُ ثِنَتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ زَوْجَةً مِنَ الْحُوْرِ الْعِيْنِ وَيُشَفَّعُ فِيْ سَبْعِيْنَ مِنْ أَقْرِبَائِهٖ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن المقدام بن معدي كرب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" للشهيد عند الله ست خصال: يغفر له في أول دفعة ويرى مقعده من الجنة ويجار من عذاب القبر ويأمن من الفزع الأكبر ويوضع على رأسه تاج الوقار الياقوتة منها خير من الدنيا وما فيها ويزوج ثنتين وسبعين زوجة من الحور العين ويشفع في سبعين من أقربائه ". رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مقدام ابن معدیکرب سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ شہید کیکے ہاں چھ خصلتیں(درجے)ہیں ۱؎پہلی ہی دفعہ میں اسے بخش دیا جاتا ہے۲؎اور اسے جنت کا ٹھکانا دکھادیا جاتا ہے۳؎اور اسے قبر کے عذاب سے امان دی جاتی ہے اور وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۴؎اور اس کے سر پرعزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہوگا ۵؎اور بہتر حورعین(آنکھوں والی)سے اس کا نکاح کیا جائے گا ۶؎اوراس کے ستر اہل قرابت میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۷؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎کہ یہ چھ خوبیاں کسی اور میں جمع نہیں ہوتیں۔
۲
؎کہ اس کا خون زمین پر پیچھےگرتا ہے اور اس کے تمام گناہوں کی معافی پہلے ہی ہوچکتی ہے۔حتی کہ امام شافعی کے ہاں شہید پر نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جاتی،وہ فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ معافی گناہ کے لیے ہوتی ہے اس کی معافی تو پہلے ہی ہوچکی،امام اعظم فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ شرافت انسانی کے ظہور کے لیے ہے جس کا شہید زیادہ حقدار ہے نہ کہ معافی گناہ کے لیے ورنہ چھوٹے بچوں اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نماز نہ ہوتی۔
۳
؎بعض غازی صحابہ نے شہید ہونے سے پہلے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ جنت وہ ہے یارسولمیں دیکھ رہا ہوں پھر شہید ہوئے،بعض زخمی مجاہدوں نے باوجود پیاس کے جان توڑتے ہوئے پانی قبول نہ کیا فرمایا کہ اب کوثر سامنے ہے،وہاں ہی جاکر پئیں گے جیساکہ احادیث و تواریخ میں وارد ہے۔
۴
؎رب تعا لیٰ فرماتاہے:"یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَفَزِعَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ"اور فرماتاہے:"لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ"یعنی شہید کو نہ قیامت میں گھبراہٹ ہوگی نہ قبر میں،نہ مرتے وقت،نہ پل صراط پر،نہ موت کو ذبح کردیئے جانے پر۔
۵
؎یعنی اسے عزت کا تاج پہنایا جائے گا جس سے وہ تمام محشر والوں سے ممتاز ہوگا جیسے بادشاہ یا وزیر تاج کی وجہ سے دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔
۶
؎حوربنا ہےحوراءسے بمعنی آنکھ کی تیزسفیدی،پتلیوں کی تیز سیاہی،یہ چیز حسن کا اعلیٰ درجہ ہے۔عینجمع ہےعیناءکی بڑی بڑی آنکھ،چونکہ حوروں کی آنکھیں بڑی اور خوب سفید و سیاہ ہیں اس لیے انہیں حورعین کہا جاتا ہے۔(مرقات)یعنی شہید کو اپنی دنیاوی اور کفار کی مؤمنہ بیویوں کے علاوہ جو اسے کفار کے ورثہ میں ملیں گی بہتر حوریں بیویاں دی جائیں گی۔خیال رہے کہ حور جنس بشر سے نہیں کہ وہ اولاد آدم علیہ السلام نہیں ہیں نورانی مخلوق ہے۔دنیا میں انسان کا نکاح غیرجنس سے درست نہیں،آخرت میں بعد قیامت درست ہوگا،یہ بھی خیال رہے کہ حوروں سے اختلاط بعد قیامت ہوگا،قیامت سے پہلے اگرچہ شہید جنت کے پھل فروٹ کھائیں گے مگر حوروں سے بےتعلق رہیں گے۔
۷
؎یا ستر سے مراد کثرت و زیادتی ہے یا ستر کا عدد،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔اقرباءسے مراد رشتہ دار اور دوست و احباب دونوں ہیں۔(مرقات)بشرطیکہ مسلمان ہوں کافرومشرک کا شفیع کوئی نہیں،جب شہید ستر۷۰ کی شفاعت کرے گا تو خاص علماءواولیاءاور پھرحضورصلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت کا کیا پوچھنا ہے ۔ خیال رہے کہ رب تعالٰی کے عدل کے ظہور کے وقت یعنی اول قیامت صرف حضور ہی شفاعت فرمائیں گے۔اسے شفاعت کبریٰ کہا جاتا ہے اور پھر ظہور فضل کے وقت شہید وغیرہم شفاعت کریں گے لہذا شفیع المذنبین صرف حضور کا لقب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3834