Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3842

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِلْغَازِيْ أَجْرُهٗ، وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُهٗ وَأَجْرُ الْغَازِيْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "للغازي أجره، وللجاعل أجره وأجر الغازي". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ غازی(مجاہد)کے لیے اس کا ثواب ہے ۱؎اور غازی کے مددگار کے لیے ۲؎اپنا ثواب ہے اور غازی کا ثواب ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو خود جہاد میں جائے اور غزوہ کرے اسے جہاد کا وہ پورا پورا ثواب ملے گا جو مجاہد کے لیے رب نے خاص فرمایا ہے۔
۲
؎یعنی جو مسلمان کسی مجاہد غازی کو مالی امداد دے کہ اسے سامان جہاد سواری وغیرہ مہیا کردے جس سے وہ جہاد کرلے۔لغت میںجعلج کے پیش سے بمعنی اجرت و مزدوری آتا ہے،یہاں مزدوری اور سامان جہاد سب مراد ہیں۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک جہاد کی اجرت دینا بالکل جائز ہے مگر امام شافعی کے ہاں ناجائز ہے حتی کہ اگر کسی غازی نے یہ اجرت لے لی تو واپس کرنا واجب ہے یہ حدیث امام ابوحنیفہ کی دلیل ہے۔ (مرقات)
۳
؎یعنی اس مال دینے والےاور معاونت کرنے والے کو دوگنا ثواب ملے گا۔ایک تو راہ خدا میں جہاد کرنے کا، دوسرے اس مجاہد کو رغبت جہاد دینے اسے جہاد پر تیار کرنے کاالدال علی الخیر کفاعلہ۔خیال رہے کہ امام زہری اور امام مالک و امام اعظم کے ہاں جہاد پر اجرت دینا لینا جائز ہے اور اجیر کو بھی ثواب ملے گا اس لیے کہ اسے اجرت لینے کے باوجود حضور نے غازی فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3842