Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3825

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ قَاتَلَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فُوَاقَ ناقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ،وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيْءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ، لَوْنُهَا الزَّعْفَرَانُ، وَرِيْحُهَا الْمِسْكُ،وَمَنْ خَرَجَ بِهٖ خُرَاجٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ طَابَعَ الشُّهَدَاءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن معاذ بن جبل أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من قاتل في سبيل الله فواق ناقة فقد وجبت له الجنة،ومن جرح جرحا في سبيل الله أو نكب نكبة فإنها تجيء يوم القيامة كأغزر ما كانت، لونها الزعفران، وريحها المسك،ومن خرج به خراج في سبيل الله فإن عليه طابع الشهداء". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے انہوں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جوکی راہ میں اونٹنی دوہنے کے وقفہ کی برابر جہاد کرے ۱؎تو یقینًا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۲؎اور جوکی راہ میں معمولی زخمی کیا جائے یا معمولی تکلیف دیا جائے۳؎تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ چمکدار ہوگا جیسا کہ تھا۴؎اس کا رنگ زعفرانی ہوگا ۵؎اس کی خوشبو مشک کی سی اور جسےکی راہ میں پھنسی نکل آوے ۶؎تو یقینًا اس پر شہیدوں کی مہر ہوگی ۷؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎عربی میںفواقجانور کو دوبارہ دوہنے کے درمیان وقفہ کو کہتے ہیں،اس وقفہ سے مرا دیا تو صبح شام دوہنے کے درمیان کا فاصلہ ہے یا ایک دفعہ دوہنے کے درمیان کا وقفہ ہے کیونکہ اونٹنی کو کچھ دوہ کر تھوڑا ٹھہرجاتے ہیں،اتنے میں وہ پھر دودھ اتارلیتی ہے تو اسے پھر دوہتے ہیں،یہ ٹھہرنا فواق کہلاتا ہے یہ چند منٹ کا ہی ہوتا ہے۔فواقبنا ہےفوقسے بمعنی اوپر،چونکہ دودھ اوپر سے ہی تھن میں آتا ہے اس لیے اسے فواق کہا جاتا ہے۔(مرقات واشعہ)
۲
؎یعنی رب تعالٰی نے اپنے ذمہ کرم پر لازم فرمالیا کہ اسے اول ہی سے جنت میں داخل فرمائے گا گناہوں کی سزا کے لیے اسے دوزخ میں نہ رکھے گا کیونکہ اس کے گناہ اس جہاد کی برکت سے معاف ہوچکے،جب پل بھر کے جہاد کا یہ درجہ ہے تو غورکرو کہ جو ہمیشہ جہاد میں رہے اس کا مرتبہ کیا ہوگا۔
۳
؎لغت میںنکبۃمعمولی حادثہ یا تکلیف کو کہتے ہیں زخم ہو یا اور کوئی تکلیف،یہاں جراحت سے مراد وہ زخم ہے جو کفار کے ہاتھوں غازی کوپہنچے اورنکبتسے مراد وہ زخم ہے جو گھوڑے سے گر جانے یا اپنا ہتھیار لگ جانے سے غازی کو پہنچے۔مرقات نے اس کو ترجیح دی جیسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی انگلی پاک میں ایک دفعہ خون نکل آیا تھا تو فرمایا تھا۔شعرھل انت الا اصبع و دعیت وفی سبیل اﷲ ما نقیت۴؎یعنی تازہ زخم جتنا سرخ تھا اس سے زیادہ سرخ ہوگا۔حق یہ ہے کہانھاکی ضمیر صرفنکبۃکی طرف ہے۔مقصد یہ ہے کہ جب جہاد میں اتفافی لگی ہوئی چوٹ کا یہ درجہ ہے تو کفار کے ہاتھوں لگے ہوئے زخم یا قتل کا کیا مرتبہ ہوگا،بعض شارحین نے فرمایاکاغزرکا کاف زائدہ ہے۔
۵
؎اس طرح کہ زخم کی سرخی میں زعفرانی زردی جھلکتی ہوگی جس سے اس کا حسن زیادہ ہوگا اور اس کی خوشبو سے وہ میدان مہکتا ہوگا جہاں جہاں یہ غازی کھڑا ہوگا۔یہ قیامت میں ہوگا اس علامت سے غازی پہنچانا جائے گا اور اس کا احترام کیا جائے گا۔
۶
؎خراجخ کے پیش سے جسم میں سے ابھر آنے والی چیز جسے اپھارہ کہا جاتا ہے جیسے پھڑیا پھنسی آبلہ وغیرہ یعنی اگر غازی کے جسم پر میدان جہاد میں کوئی قدرتی پھڑیا پھنسی نکل آوے نہ کسی کافر کی طرف سے چوٹ لگی ہو نہ کسی اور وجہ سے۔
۷
؎طابعبنا ہےطبعسے بمعنی چھپنا مہر لگنا"طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ"۔مطلب یہ ہے کہ قدرتی پھڑیا پھنسی بھی اگر غازی کو نکل آئے تو اس پر شہید کی نشانی ہوگی،اسے شہیدوں کے زمرہ میں داخل کیا جاوے گا، ان کا سا احترام ہوگا کیونکہ اس نےکی راہ میں کوشش تو کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3825