Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3855

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِيْ عَمِيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا مِنْ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ يَقْبِضُهَا رَبُّهَا تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا غَيْرَ الشَّهِيْدِ" قَالَ ابْنُ أَبِي عَمِيْرَةَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِأَنْ أُقْتَلَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُوْنَ لِيْ أَهْلُ الْوَبَرِ وَالْمَدَرِ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

وعن عبد الرحمن بن أبي عميرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ما من نفس مسلمة يقبضها ربها تحب أن ترجع إليكم وأن لها الدنيا وما فيها غير الشهيد" قال ابن أبي عميرة: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لأن أقتل في سبيل الله أحب إلي من أن يكون لي أهل الوبر والمدر". رواه النسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابی عمیرہ سے ۱؎کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کوئی مسلمان جان جسےتعالٰی قبض فرمائے ۲؎ایسی نہیں جو تمہاری طرف لوٹنا چاہے اگرچہ اس کے لیے دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں ہوجائیں سواء شہید کے ۳؎ابن ابی عمیرہ فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مجھےکی راہ میں مارا جانا اس سے زیادہ پیارا ہے کہ میری ملک اون والے اور ڈھیلے والے ہوں۴؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مدنی قرشی ہیں،آپ کی صحابیت میں اختلاف ہے،اگر آپ صحابی ہیں تو حدیث متصل ہے اور اگر تابعی ہیں تو یہ حدیث مرسل ہے کہ صحابی کا ذکر اس میں نہیں۔(از مرقات،اشعہ)
۲
؎اگرچہ جان قبض کرنا حضرت ملک الموت کا کام ہے مگر چونکہ ان کا یہ کام رب تعالٰی کے حکم سے ہوتا ہے، نیز محبوبوں کا کام رب کا کام ہے اس لیے یہاں قبض روح کو رب تعالٰی کی طرف نسبت فرمایا گیا۔مرقات نے فرمایا کہ قبض روح حقیقتًا رب کا کام ہے مجازًا حضرت ملک الموت کا کام۔
۳
؎یعنی جسےتعالٰی بخش دے وہ دنیا میں واپس آنے کی کبھی تمنا نہیں کرتاکیونکہ وہاں کے عیش خالص اور دنیا کے عیش مصیبتوں سے مخلوط۔کفار تو دنیا میں آنے کی تمنا کرتے ہیں مگر جھڑک دیئے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ یہاں دنیا میں واپس آنے سے مراد عمل کرنے کے لیے اس جسم عنصری کے ساتھ آنا مراد ہے،ورنہ شہداءواولیاء دنیا میں سیر فرماتے ہیں،بعض حضرات نے ان سے ملاقاتیں بھی کی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے تمام نبیوں نے نماز ادا کی معراج کی رات،اور فقیر نے اس نماز کی جگہ کی زیارت کی بیت المقدس میں رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرْیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ"اے محبوب آپ موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات میں شک نہ کریں۔۴؎اون والوں سے مراد دیہاتی لوگ ہیں جو اونی خیموں میں رہتے ہیں اور ڈھیلے والوں سے مراد شہری لوگ ہیں جو مکانات بنا کر رہتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ تمام جہان کی بادشاہت سے اکی راہ میں شہید ہونا مجھے زیادہ پیارا ہے۔خیال رہے کہ اس زیادہ پیارا ہونے کی وجہ سے حضور کو رب تعالٰی نے شہادت کا ثواب عطا فرمادیا کہ نیکی کی تمنا بھی نیکی ہے پھر خیبر والے زہر کے اثر سے حضور کی وفات ہوئی،زہر سے وفات بھی شہادت ہے،فقہی شہادت یعنیکی راہ میں قتل ہونا حضور کو عطا نہ ہوا،کہ رب تعالٰی نے فرمایا تھا"وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِآپ کو لوگوں سے بچائے گا۔اگر کوئی کافر آپ کو شہید کردیتا تو بظاہر اس آیت کے خلا ف ہوتا۔تمام روئے زمین کے شہداء کی شہادتوں کا ثواب حضور کو عطا ہوتا ہے کہ حضور کے حکم سے جہاد اور شہادتیں ہورہی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3855