Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3848

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَعَجَزْتُمْ إِذَا بَعَثْتُ رَجُلًا فَلَمْ يَمْضرِ لِأَمْرِيْ أَنْ تَجْعَلُوْا مَكَانَةُ مَنْ يَمْضِيْ لِأَمْرِيْ؟ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَذَكَرَ حَدِيْثَ فَضَالَةَ: "وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهٗ" فِيْ "كتَابِ الإِيْمَانِ".

وعن عقبة بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أعجزتم إذا بعثت رجلا فلم يمضر لأمري أن تجعلوا مكانة من يمضي لأمري؟ ". رواه أبو داود، وذكر حديث فضالة: "والمجاهد من جاهد نفسه" في "كتاب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن مالک سے ۱؎وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کیا تم اس سے عاجز ہو کہ جب کسی شخص کو بھیجوں پھر وہ میرا حکم جاری نہ کرے تو تم اس کی جگہ کسی ایسے کو مقرر کر دو جو میرا حکم جاری کرے ۲؎(ابوداؤد)اور فضالہ کی وہ حدیث کہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرےکتاب الایمانمیں ذکر کردی گئی۳؎

شرح حدیث

۱∞؎صاحب مشکوۃ نے ان کا ذکر اسماءالرجال میں نہیں فرمایا،اشعہ نے فرمایا کہ آپ صحابی ہیں یعنی اہل بصرہ میں آپ کا شمار ہے۔
۲
؎یعنی اگر میں کسی کو امیروحاکم بناکر کہیں بھیجوں،جہاد میں یا اور جگہ اور پھر وہ حاکم میرے فرمان کے مطابق عمل نہ کرے تو تم کو لازم ہے کہ اسے معزول کرکے دوسرے ایسے آدمی کو امیر بنالو جو میرے احکام نافذ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رعایا ظالم حاکم کو معزول کرکے عادل حاکم مقرر کرسکتی ہے مگر خیال رہے کہ یہ جب ہے جب کہ اس کے معزول کرنے میں خون ریزی اور فتنہ و فساد نہ ہو بہ آسانی وہ معزول کیا جاسکے۔(مرقات)لہذا صحابہ کرام کا حجاج ابن یوسف جیسے ظالم و خونخوار حاکم کو معزول نہ کرنا اس کے ظلم سہنا اس حدیث کے خلاف نہیں۔اس کے الگ کرنے میں بڑے فتنہ کا دروازہ کھلتا بڑی خونریزی ہوتی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر قاتل سفاک حاکم کے معزول کرنے میں خونریزی اس سے کم ہو جتنی اس کے قائم رہنے میں ہو تو اسے معزول کردیا جائے اگر اس کے برعکس ہو تو معزول نہ کیا جائے۔نیز مالی ظالم کو معزول نہ کرواؤ جانی ظالم کو معزول کرواؤ اس شرط سے جوابھی مذکور ہو ئی غرضیکہ تبدیلی حکومت آسان چیزنہیں۔ خیال رہے کہ مؤذن کو امام معزول کرسکتا ہے اور امام کو متولی مسجد علیٰحدہ کرسکتا ہے اور متولی کو عامۃ المسلمین معزول کرسکتے ہیں۔یہ مسئلہ یہاں سے ماخوذ ہے عوام کی بڑی طاقت ہوتی ہے۔آج کل اس کا نظارہ ہر الیکشن کے موقعہ پر ہوتا ہے۔
۳
؎یعنی مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی،ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ حدیثکتاب الایمانمیں ذکر کردی ہے ایک طویل حدیث کے ضمن میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3848