Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3836

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اَلشَّهِيْدُ لَا يَجِدُ أَلَمَ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ أَلَمَ الْقَرْصَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "الشهيد لا يجد ألم القتل إلا كما يجد أحدكم ألم القرصة". رواه الترمذي والنسائي والدارمي، وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ شہید قتل کی تکلیف نہیں پاتا مگر اتنی جتنی کہ کوئی چیونٹی کے کاٹنے کی تکلیف پائے ۱؎(ترمذی،نسائی،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں شہید سے مراد حقیقی شہید یعنی ظلمًا مقتول خصوصًا جہاد میں کفار کے ہاتھ شہید یعنی شہید کو نزع کی شدت نہیں،نہایت معمولی چسک سی ہوتی ہے اور راہِ خدا میں جان دینے کی جو لذت ہے وہ تو ایسی ہے جو بیان میں نہیں آ سکتی،حتی کہ شہید بارگاہِ الٰہی میں پہنچ کر اس لذت کو حاصل کرنے کے لیے پھر دنیا میں آنا چاہتا ہے۔مرقات نے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ اس میں شہید حکمی بھی داخل ہو۔خیال رہے کہ بعض عشاق کو مرتے وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا جمال دکھایا جاتا ہے جس میں وہ ایسے وارفتہ ہوجاتے ہیں کہ انہیں نزع کی شدت محسوس نہیں ہوتی۔دیکھو مصر کی عورتوں نے جمال یوسفی میں محو ہو کر اپنے ہاتھ کاٹ لیے مگر ہائے وائے نہ کی کہ انہیں کچھ تکلیف محسوس نہ ہوئی،جمال محمدی میں محویت کا کیا عالم ہوگا،رب ہی جانے۔جب دہلی میں غازی عبدالرشید کو ایک گستاخ آریہ کے قتل کے عوض پھانسی دی گئی تو اولًا اس نے پھانسی کو چوما پھر جان نکلنے پر آیہ کریمہ "كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ(۲۶)وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ(۲۷)"پڑھی اور ہنستے ہوئے جان خدا کے حوالے کردی۔عاشقوں کے حال نیارے،لہذا حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے اور ایسے مرنے والوں کو مرتے دیکھا بھی گیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3836