Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3802

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِيْ سَبِيْلِهٖ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهٗ يَثْعَبُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالرِّيْحُ رِيْحُ الْمِسْكِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يكلم أحد في سبيل الله والله أعلم بمن يكلم في سبيله إلا جاء يوم القيامة وجرحه يثعب دما، اللون لون الدم، والريح ريح المسك". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں زخمی کیا جاتاکی راہ میں کوئی ۱؎ہی جانے کہ کونکی راہ میں زخمی کیاجاتا ہے ۲؎مگر وہ قیامت کے دن اسی طرح آئے گا کہ اس کا زخم خون بہاتا ہوگا۳؎رنگ خون کا رنگ ہوگا اور خوشبو مشک کی سی ہوگی ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خواہ اس زخم سے موت ہوجائے یا نہ ہو۔
۲
؎اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ ہر شخص جو میدان جہاد میں زخمی ہو وہ فی سبیلزخمی نہیں۔فی سبیلزخمی وہ ہے جس میں ریا نیتِ دنیا نہ ہو،یہ رب ہی جانتا ہے کہ کون راہِ خدا میں زخمی ہوا اور کون طلب دنیا میں۔دوسرے یہ کہخوب جانتا ہے کہ راہ خدا میں زخمی کون ہوتا ہے اسے پوری پوری جزا دے گا۔جیسے "وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ"۔اس صورت میں یہ جملہ اس کی اظہار شان کے لیے ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کفار سے جہاد میں یا باغیوں ڈاکوؤں کے ہاتھوں زخمی ہونے والا،یوں ہی تبلیغ دین کے سلسلہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والا اس میں سب شامل ہیں سب کا یہ ہی اجر ہے جو یہاں مذکور ہے۔
۳
؎یعنی اس کے زخم ہرے ہوں گے ان سے تازہ خون جاری ہوگا مگر اس دن تکلیف نہ ہوگی۔یہ خون جاری ہونا اس کے مجاہد ہونے کی نشانی ہوگی جس سے تمام محشر والے اس کی عزت کریں گے۔بعض روایات میں بجائےیثعبکےیتفجرہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں،یعنی بہانا۔
۴
؎لہذا وہ خون نہ تو نجس ہوگا نہ بدبودار بلکہ اس کی مہک سے محشر والے تعجب کریں گے اور اس شخص کا احترام کریں گے،جب زخمی کا یہ حال ہے تو راہ خدا عزوجل میں شہید ہونے والے کا کیا پوچھنا،یہ خوشبو عبادت کے اثر سے ہوگی جیسے روزہ دار کے منہ کی خوشبو رب تعالٰی کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3802