Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3823

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَن فَضالَةَ بنِ عُبيدٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلٰى عَمَلِهٖ إِلَّا الَّذِيْ مَاتَ مُرَابِطًا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَإِنَّهٗ يُنَمَّى لَهٗ عَمَلُهٗ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيَأْمَنُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن فضالة بن عبيد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "كل ميت يختم على عمله إلا الذي مات مرابطا في سبيل الله فإنه ينمى له عمله إلى يوم القيامة ويأمن فتنة القبر". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت فضالہ ابن عبید سے ۱؎وہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ہر میت کا خاتمہ اپنے اعمال پر ہوجاتا ہے ۲؎سوا اس کے جو خدا کی راہ میں مرابط ہوکر مرے ۳؎کہ اس کے عمل قیامت تک اس کے لیے بڑھتے رہتے ہیں۴؎اور قبر کے فتنہ سے وہ امن میں رہتا ہے ۵؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری صحابی ہیں،غزوہ احد اور بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،خیبر کی فتح میں شامل تھے،حضور کے بعد دمشق میں رہے وہاں امیر معاویہ کی طرف سے دمشق کے گورنر رہے،امیر معاویہ کے زمانہ میں ۵۳ھ؁ ∞ میں دمشق میں ہی وفات پائی،وہاں ہی دفن ہوئے۔(اشعہ)
۲
؎یعنی آخر حیات میں جو نیک و بدعمل کرتا تھا اس پر مرجاتا ہے اور مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں کہ فاعل کی موت افعال کو ختم کر دیتی ہے۔
۳
؎یعنی اسلامی ملک کی سرحد پر جہاد پر تیار رہا اور وہاں ہی فوت ہوگیا،مرابط کے معنی پہلے بیان ہوچکے ہیں،یہ ربط بمعنی باندھنے سے بنا۔مرابط وہ جو اپنے کو کفار کے مقابل باندھ دے،اپنے ہاں جہاد کے لیے گھوڑا باندھے۔
۴
؎اس طرح کہ قیامت تک اسے ہر گھڑی وہ ہی ثواب ملتا رہتا ہے جو زندگی میں ملتا تھا اس کا رباط فی سبیلصدقہ جاریہ ہوجاتا ہے کیونکہ مسلمان اس کے رباط سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔
۵
؎اس طرح کہ اس سے نہ حساب قبر ہو نہ اسے عذاب قبر ہو،بقیہ صدقات جاریہ میں یہ انعام نہیں ملتا یہ صرف مرابط کو ملتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3823