Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3821

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "جَاهِدُوْا الْمُشْرِكِيْنَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "جاهدوا المشركين بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم". رواه أبو داود والنسائي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا کفار سے جہاد کرو ۱؎اپنے مالوں سے اپنی جانوں سے اپنی زبانوں سے ۲؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎مشرکین سے مراد کفار حربی ہیں خواہ عرب کے ہوں یا عجم کے اور جہاد خواہ محترم مہینہ میں ہو یا ان کے علاوہ۔خیال رہے کہ کفارعرب سے جزیہ قبول نہیں،صرف اسلام ہی ان کے لیے ذریعہ امان ہے اور کفار عجم سے جزیہ بھی قبول ہے کہ وہ ہمارے رعایا بن کر رہیں،ہم کو حق حفاظت میں جزیہ دیں اور ہمارے ملک میں امان سے رہیں،نیز جہاد کے لیے یہ لازم نہیں کہ کفار ابتداءکریں،ہم مسلمان مدافعانہ اور جارحانہ ہر طرح کا جہاد کرسکتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"قٰتِلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقٰتِلُوۡنَکُمْ کَآفَّۃً" اس آیت اور اس حدیث نے ترک جہاد اور نرمی کی تمام آیات اور احادیث کو منسوخ فرمادیا چنانچہ آیت "فَاِنۡ قٰتَلُوۡکُمْ فَاقْتُلُوۡھُمْ"بھی منسوخ ہے۔(مرقات)اسکی تحقیق ہماری تفسیر نعیمی میں ملاحظہ کرو۔
۲
؎جان کا جہاد تو مشہور ہے میدان جنگ میں شمشیر یا تدبیر سے جنگ،مال کا جہاد،غازیوں کو سامان دینا،زبان کا جہاد کفار کی زبانی قلمی تردید دلائل سے کرنا،ان کی شکست کی دعا کرنا،انہیں ڈرانا دھمکانا۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ معبودین کو برا کہنے کی ممانعت کی آیت یا منسوخ ہے یا معلل ہے اس کیفیت سے جب مسلمان انہیں گالیاں دینے سے روک نہ سکیں اس کی مثل لمعات میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3821