Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3799

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ مَسْعُوْدٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُوْمَةٍ فَقَالَ: هٰذِهٖ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبع مِائَةٍ ناقَةٍ كُلُّهَا مَخْطُوْمَةٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي مسعود الأنصاري قال: جاء رجل بناقة مخطومة فقال: هذه في سبيل الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لك بها يوم القيامة سبع مائة ناقة كلها مخطومة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے فرماتے ہیں ایک شخص جہاد والی اونٹنی لایا ۱؎عرض کیا یہکی راہ میں ہے ۲؎تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کے عوض تجھے قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ملیں گی جو۳؎سب کی سب مہار والی ہوں گی۔ (مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎کبھیخطامبمعنیزمامآتا ہے یعنی مہار،لمبا رسہ،نکیل جس کا ایک کنارہ اونٹ کی ناک میں ہوتا ہے دوسرا مالک کے ہاتھ میں، کبھی خطام صرف نتھ کو کہتے ہیں اور زمام پوری مہارو نکیل کو،نتھ وہ رسی پتلی سی ہے جو ناک میں ڈال کر پورے سر سے گھما کر باندھ دی جائے،پھر اس رسی میں نکیل باندھی جاوے جیسے عمومًا گاؤں والے بیل بھینس کو باندھتے ہیں۔
۲
؎فقراء کے لیے یا مجاہدین غازیوں کے لیے،دوسرے معنی زیادہ موزوں ہیں اس لیے مؤلف یہ حدیثکتاب الجہادمیں لائے۔
۳
؎حق یہ ہے کہ حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،اتعالٰی بطور اعزاز اہل جنت کو سواری کے لیے گھوڑے اونٹنیاں عطا فرمائے گا جن کی رفتار ہوا سے زیادہ ہوگی جیسے قربانی کرنے والوں کو صراط طے کرنے کے لیے سواری دی جائے گی۔بعض شارحین نے کہا کہ اس سے مراد ہے سات سو اونٹنیاں خیرات کرنے کا ثواب دے گا مگر یہ درست نہیں ورنہ پھر مہار والی ہونے کے کیا معنی،کیا ثواب کے بھی مہار ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں خرچ کرنے والوں کو زیادہ ثواب ملتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ تجھے اونٹ کے عوض سات سو اونٹ اور مہار کے عوض سات سو مہاریں عطا ہوں گی تیری کوئی خیرات ضائع نہ جاوے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3799