Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3827

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْضَلُ الصَّدَقَاتِ ظِلُّ فُسْطَاطٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، وَمِنْحَةُ خَادِمٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ،أَوْ طَرُوْقَةُ فَحْلٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أفضل الصدقات ظل فسطاط في سبيل الله، ومنحة خادم في سبيل الله،أو طروقة فحل في سبيل الله". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے تمام خیراتوں میں افضلکی راہ میں خیمہ کا سایہ ہے ۱؎اورکی راہ میں خادم کا عطیہ ہے ۲؎یا راہ خدا میں نر کی سواری ہے۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ مجاہدین کو بالکل یا عاریۃً خیمہ دے دیا جائے کہ وہ سفر جہاد میں اس کے سایہ میں بیٹھا کریں،اسی طرح حجاج کو عرفات وغیرہ میں خیمہ،شامیانہ لگادینا،اگر طلباء میدان میں بیٹھ کر پڑھتے ہوں مدرسہ کی عمارت نہ ہو ان کے لیے سایہ کا انتظام کردینا،جہاں مسجد نہ ہو وہاں نمازیوں کے لیے شامیانہ یا خیمہ لگادینا سب ہی اس میں داخل ہیں۔قسطاطہر چھوٹے بڑے خیمہ کو کہا جاتا ہے۔
۲
؎غازیوں،حاجیوں،دینی علماءوطلباء کی خدمت کے لیے کوئی آدمی مقرر کردینا جس کی تنخواہ خود برداشت کرنا۔
۳
؎اس فرمان عالی کے دو معنی ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ مجاہدین کے لیے جو اونٹنیاں ہوں انہیں حاملہ کرنے کے لیے نر اونٹ عاریۃً دے دینا کہ یہ بھی ثواب ہے اس سے جو اونٹ کی نسل چلے گی اس پر مجاہدین جہاد کریں گے اسے ثواب ملیگا۔دوسرے یہ کہ مجاہد کو سواری کے لیے عاریۃً اونٹ دے دینا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3827