Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3840

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ فَصَلَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ أَوْ وَقَصَهُ فَرَسُهٗ أَوْ بَعِيْرُهٗ أَوْ لَدْغَتْهُ هَامَّةٌ أَو مَاتَ عَلٰى فِرَاشهِ بِأَيِّ حَتْفٍ شَاءَ اللّٰهُ فَإِنَّهٗ شَهِيْدٌ وَإِنَّ لَهُ الْجنَّةَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي مالك الأشعري قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من فصل في سبيل الله فمات أو قتل أو وقصه فرسه أو بعيره أو لدغته هامة أو مات على فراشه بأي حتف شاء الله فإنه شهيد وإن له الجنة". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جوکی راہ میں گھر سے نکلا ۱؎پھرقتل کیا گیا اسے اس کے گھوڑے یا اونٹ نے کچل دیا اسے زہریلے جانور نے ڈس لیا ۲؎یا اپنے بستر پر کسی سبب سے مر گیا جیسےنے چاہا تو وہ شہید ہے ۳؎اور اس کے لیے جنت ہے ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎فصلیا تو بابضربسے ہے یعنی گھر سے جدا ہوا نکلا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالْجُنُوۡدِ"یافصلباب تفعیل سے ہے یعنی جس نے اپنے کو اپنے وطن سے جدا کیا جہاد کے لیے یا حج کے لیے یا طلب علم کے لیے۔
۲
؎عربی میںھامہوہ زہریلا جانور ہے جس کا زہر قاتل ہو جیسے سانپ وغیرہ اورسامہوہ زہریلا جانور ہے جس کا زہر تکلیف دہ تو ہو قاتل نہ ہو جیسے بچھو بھڑ وغیرہ۔
۳
؎یا شہید حقیقی یا شہید حکمی جیسا کہ گزشتہ فرمان سے ظاہر ہے ظلمًا مقتول تو شہید حقیقی ہے اور زہر یلے جانور وغیرہ سے مرنے والا شہید حکمی۔
۴
؎فقہاء فرماتے ہیں کہ سفر کی موت شہادت ہے اس کا ماخذ یہ حدیث ہے سفر سے مراد راہِ خدا کا سفر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3840