Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3845

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! رجلٌ يُرِيْدُ الْجهَادَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَهُوَ يَبْتَغِيْ عَرَضًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا أَجْرَ لَهٗ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة أن رجلا قال: يا رسول الله! رجل يريد الجهاد في سبيل الله وهو يبتغي عرضا من عرض الدنيا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لا أجر له". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے ایک شخص نے عرض کیا یارسولایک شخص راہِ خدا )عزوجل( میں جہاد کا ارادہ کرتا ہے ساتھ ہی وہ دنیاوی سامان سے کسی سامان کی خواہش کرتا ہے ۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کے لیے کچھ ثواب نہیں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎عرضع اور ر کے فتحہ سے بمعنی مال ہے تھوڑ ا ہو یا زیادہ اوررکے سکون سے بمعنی سامان،لہذا روپیہ پیسہعرضر کے فتحہ سے ہے مگر عرض نہیں بلکہ وہ عین ہے عرض دنیا سے مراد ہر دنیاوی خیر ہے مال ہو یا عزت یا شہرت یا اجرت۔(مرقات)یعنی جہاد فی سبیلمیں گیا مگر اس کا مقصد دنیا ہے مال ہو یا متاع یا عزت یا شہرتکے لیے وہاں نہ گیا لہذا جواب بالکل برحق ہے۔
۲
؎کیونکہ وہ اس جہاد سے مرضی الٰہی کا طالب نہ تھا،طالب دنیا تھا لہذا ثواب کا مستحق نہیں،لیکن اگر رضائے الٰہی کے لیے جہاد کرے اور خیال یہ بھی ہو کہ رب تعالٰی غنیمت عطا فرمائے توان شاءاﷲثواب بھی ملے گا۔اگرچہ اس غازی سے کم ملے گا جو غنیمت کی نیت بالکل نہ کرے،بہرحال ثواب کا مدار نیت پر ہے پہلے حدیث گزر چکی کہ غازی اجروثواب اور غنیمت لے کر لوٹتا ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3845