Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3851

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "من رَضِيَ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلَامِ دِيْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" فَعَجِبَ لَهَا أَبُوْ سَعِيْدٍ فَقَالَ: أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "وَأُخْرٰى يَرْفَعُ اللّٰهُ بِهَا الْعَبْدَ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ" قَالَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "الْجِهَادُ فِيْ سَبِيْل اللّٰهِ، الْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، الْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من رضي بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد رسولا، وجبت له الجنة" فعجب لها أبو سعيد فقال: أعدها علي يا رسول الله! فأعادها عليه، ثم قال: "وأخرى يرفع الله بها العبد مائة درجة في الجنة، ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض" قال: وما هي يا رسول الله؟ قال: "الجهاد في سبيل الله، الجهاد في سبيل الله، الجهاد في سبيل الله". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جوکے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد (صلی اللہ علیہ و سلم)کے رسول ہونے پر راضی ہوگیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۱؎اس پر ابوسعید نے تعجب کیا بولے یارسول(صلی اللہ علیہ و سلم) یہ حدیث مجھے دوبارہ فرمایئے ۲؎حضور نے انہیں دوبارہ یہ بشارت سنائی پھر فرمایا دوسری چیز بھی ہے جس کی برکت سےتعالٰی بندے کے سو درجے جنت میں بلند فرماتا ہے۳؎ہر دو درجوں کے درمیان ایسا فاصلہ ہے جیسا آسمان و زمین کے درمیان عرض کیا یارسولوہ کیا ہے فرمایاکی راہ میں جہادکی راہ میں جہاد،اکی راہ میں جہاد۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کے معانی بار ہا بیان ہوچکے۔اتعالٰی سے راضی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ بندہ راضی بہ قضا رہے،نعمتوں میں رب کا شکر کرے،مصیبتوں میں صبر کرے،اسی طرح اسلام کے دین ہونے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی احکام پر راضی دل سے انہیں پسند کرے خواہ سمجھ میں آویں یا نہ آویں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی ہونے پر راضی ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حضور کے تمام اقوال،افعال،اعمال، احوال سے دلی محبت کرے۔جس چیز کو حضور سے نسبت ہو اسے دل سے محبوب رکھے۔شریعت،طریقت، حقیقت معرفت کو دل سے پسند کرے کیونکہ شریعت حضور انور کے جسم اطہر کے حالات کا نام ہے،طریقت قلب پاک مصطفی کی واردات ہے،یوں ہی حقیقت و معرفت روح پاک سر پاک کی واردات کا نام ہے۔غرضیکہ یہ سب حضور کی ادائیں ہیں ایسے شخص کے لیے دنیا میں ہی جنت واجب ہوچکی کہ جئے گا جنتی ہوکر،مرے گا جنتی ہوکر،اٹھے گا جنتیوں کے زمرہ میں۔مرقات نے فرمایا کہ رب تعالٰی کافرمان:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ" میں دو جنتوں سے مراد دنیا و آخرت کی جنت ہے یعنی رب تعالٰی سے ڈرنے والے کے لیے ایک جنت دنیا میں ہے اور دوسری جنت آخرت میں۔سبحان اﷲ!کیسی پیاری بات کہی۔حضور کی شریعت، اطاعت،محبت دنیا کی جنت ہے۔
۲
؎یہ تعجب انتہائی خوشی کا تھا اور دوبارہ کہلوانا اس لیے تھا کہ ایسے ہمارے بشارت والے کلمے پھر ایسے بے مثال بشیرونذیر کے لبوں سے بہت لذیذ معلوم ہوئے۔شعر
وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے
۳
؎یعنی دوسری خوشخبری اور سنو اور خوش ہو،کیوں نہ خوش ہوں جب رب تعالٰی نے ہم کو ایسے بشیرونذیر کی امت میں بنایا یعنی ایک عمل ایسا بھی ہے جس سے عامل کو جنت کا اوپر والا درجہ ملتا ہے،جو سو درجے بلند ہے،ہر دو درجوں کا اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔
۴
؎اگرچہ اسلام میں جہاد بھی آگیا تھا مگر چونکہ یہ دوسرے اعمال سے بہت افضل ہے اور اس کا ثواب بہت زیادہ ہے اس لیے اسے خصوصیت سے علیٰحدہ بیان فرمایا یا مطلب یہ ہے کہ جسے جہاد نصیب ہوجائے اسی کے لیے درجے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد اکثر فرض کفایہ ہوتا ہے،مرقات نے اس سے یہ ہی مسئلہ مستنبط فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3851