Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3822

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَاضْرِبُوا الْهَامَ، تُوَرَّثُوا الْجِنَانَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أفشوا السلام، وأطعموا الطعام، واضربوا الهام، تورثوا الجنان". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سلام پھیلاؤ ۱؎کھانا کھلاؤ ۲؎کھوپڑیوں پر چوٹ لگاؤ ۳؎جنت کے وارث بن جاؤ۴؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلمانوں میں اسلامی سلام کا رواج ڈالو،اگر مسلمان کفار کی صحبت کی وجہ سے آداب عرض یا گڈ مارننگ وغیرہ کہنے کے عادی ہو گئے ہوں تو ان سے یہ بری عادت چھڑواؤ۔یا ہر واقف ناواقف مسلمان کو سلام کرو یا بلند آواز سے سلام کہو تاکہ سامنے والا سن لے اور جواب سلام دے پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔خیال رہے کہ سلام کرنا سنت ہے جواب دینا فرض،سلام کے مسائلان شاء اﷲ باب السلاممیں عرض ہوں گے۔
۲
؎حسب موقعہ عزیزوں اور نیک لوگوں کی دعوت کرو اور عمومًا بھوکوں محتاجوں کا پیٹ بھرو کہ یہ اسلام کا شعار ہے۔
۳
؎یعنی جہاد میں حربی کافروں کو قتل کرو۔ھامجمع ہےھامۃکی بمعنی کھوپڑی۔خلاصہ یہ ہے کہ سخاوت شجاعت دونوں کے جامع بن جاؤ۔
۴
؎یعنی یہ اعمال جنت ملنے کا ذریعہ ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ جنت حاصل کرنے کے لیے مجاہدہ اور مشقت کی ضرورت ہے جو مسلمان ایسے مجاہدے کرلے گا وہ آسان کام بخوبی کرسکے گا جیسے نماز روزہ حج وغیرہ لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اس میں نماز روزہ حج کا ذکر نہیں،چونکہ ہر جنتی جنت میں اپنی جگہ بھی لے گا اور کافر کے حصے پر بھی قبضہ کرلے گا اس لیے وراثت فرمایا گیا اور چونکہ جنتیں بہت سی ہیں اس لیے جمع ارشاد ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3822