Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3817

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهٗ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: "أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "فَفِيْهِمَا فَجَاهِدْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ: "فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا".

وعن عبد الله بن عمرو قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنه في الجهاد فقال: "أحي والداك؟ " قال: نعم قال: "ففيهما فجاهد". متفق عليه. وفي رواية: "فارجع إلى والديك فأحسن صحبتهما".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی تو فرمایا کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں عرض کیا ہاں ۱؎فرمایا تو انہیں ہی میں جہاد کر ۲؎(مسلم، بخاری) اور ایک روایت یہ ہے کہ اپنے ماں باپ کی طرف لوٹ جا ان سے اچھا برتاؤ کر ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎غالب یہ ہے کہ اس کے ماں باپ کو اس کی خدمت کی حاجت تھی،وہ اکیلا بیٹا خدمت گار تھا اور جہاد اس وقت فرض عین نہ تھا فرض کفایہ تھا،ایسی صورت میں ماں باپ کی خدمت جہاد پر مقدم ہے،اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو جہاد مقدم ہے۔
۲
؎یہاں جہاد سے مراد لغوی جہاد ہے بمعنی مجاہدہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ" اس سے مراد ہے جہادبالنفس۔
۳
؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی جہاد کے لیے بغیر والدین کی اجازت کے نہیں جانا چاہیے،اگر جہاد فرض ہو تو بہتر ہے کہ ان سے اجازت لے لے لیکن اگر وہ اجازت نہ دیں تو بھی چلا جاوے،اگر وہ منع کریں گے تو وہ گنہگار ہوں گے یہ حکم مؤمن والدین کے لیے ہے،کافر ماں باپ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں خواہ جہاد فرض ہو یا یا نفل۔خیال رہے کہ مسلمان ماں باپ کی اجازت کے بغیرکسی نفلی عبادت کے لیے نہ جاوے جیسے نفلی حج،نفلی عمرہ،زیارت وغیرہ حتی کہ اگر مسلمان ماں باپ اجازت نہ دیں نفلی روزہ بھی نہ رکھے۔چنانچہ ابوداؤد نے حضرت عبدابن عمرو ابن عاص سے روایت کی کہ ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا بولا میں ہجرت پر بیعت کرنے آیا ہوں والدین روتے رہ گئے ہیں فرمایا واپس جاؤ جیسے انہیں رُلا کر آئے ویسے ہی انہیں ہنساؤ،اسی ابوداؤد نے بروایت حضرت ابوسعید خدری روایت کی ہے کہ یمن سے ایک شخص ہجرت کرنے مدینہ منورہ حاضر ہوا اس سے حضور نے پوچھا کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں عرض کیا ہاں،فرمایا تو ان سے پوچھ کر آیا ہے بولا نہیں،فرمایا واپس جاؤ،اجازت لے کر آؤ،اگر اجازت نہ دیں تو ان کی خدمت کرو۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3817