Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3844

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُميَّةَ قَالَ: آذَنَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغَزْوِ وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيْرٌ لَيْسَ لِيْ خَادِمٌ، فَالْتَمَسْتُ أَجِيْرًا يَكْفِيْنِيْ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا سَمَّيْتُ لَهٗ ثَلَاثَةَ دَنانِيْرَ،فَلَمَّا حَضَرَتْ غَنِيْمَةٌ أَرَدْتُ أَنْ أُجْرِيَ لَهٗ سَهْمَهٗ، فَجئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهٗ فَقَالَ: "مَا أَجِدُ لَهٗ فِيْ غَزْوَتِهٖ هٰذِهٖ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ إِلَّا دَنَانِيْرَهُ الَّتِيْ تُسَمّٰى". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن يعلى بن أمية قال: آذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بالغزو وأنا شيخ كبير ليس لي خادم، فالتمست أجيرا يكفيني، فوجدت رجلا سميت له ثلاثة دنانير،فلما حضرت غنيمة أردت أن أجري له سهمه، فجئت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له فقال: "ما أجد له في غزوته هذه في الدنيا والآخرة إلا دنانيره التي تسمى". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن امیہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جہاد کا اعلان فرمایا میں بہت بوڑھا تھا میرے پاس کوئی نوکر بھی نہ تھا۲؎میں نے ایک مزدور ڈھونڈھا جو مجھے کفایت کرے تو میں نے ایک شخص کو پایا جس کے لیے میں نے تین دینار مقرر کیے۳؎پھر جب مال غنیمت آیا تو میں نے چاہا کہ اس کے لیے اس کا حصہ جاری کردوں۴؎چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے یہ عرض کیا تو فرمایا کہ میں اس مزدور کے لیے اس جہاد میں دنیا و آخرت میں سوا طے شدہ دیناروں کے اور کچھ نہیں پاتا ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،غزوہ حنین طائف اور تبوک میں شریک رہے،عہدِ فاروقی میں نجران کے حاکم رہے،جنگ صفین میں حضرت کے ساتھ رہے،اسی میں شہید ہوئے۔(اشعہ)
۲
؎پتہ نہ لگا کہ یہ کون سا غزوہ تھا،بہرحال انہیں جہاد کا شوق تھا مگر بڑھاپے کی وجہ سے انہیں کسی خادم کی ضرورت تھی جو میدان جہاد میں ان کی خدمت کرے۔
۳
؎کھانے پینے کے علاوہ تین دینار مجھ سے لے لے اور جہاد میں میرے ساتھ چلے وہاں میری خدمت کرے۔
۴
؎یعنی اسے بھی دوسرے غازیوں کی طرح غنیمت کا حصہ دوں یا دلواؤں اگر پیادہ تھا تو پیادہ غازی کا حصہ اور اگر سوار تھا تو سوار غازی کا حصہ۔
۵
؎یعنی اسے یہ تین دینار ہی ملیں گے ان کے سوا نہ ثواب ملے نہ غنیمت کا حصہ۔خیال رہے کہ مجاہد کے خدمت گار نوکر کے متعلق علماء میں اختلاف ہے۔بعض نے فرمایا کہ اسے حصہ غنیمت نہ ملے گا جہاد کرے یا نہ کرے صرف طے شدہ مزدوری ملے گی یہ امام اوزاعی،اسحاق کا قول ہے۔امام شافعی کے دو قول ہیں:ایک وہ جو اوپر گزرا کہ اجرت نہ ملے گی،دوسرا قول یہ ہے کہ اجرت ملے گی حصہ غنیمت نہ ملے گا،بعض کے نزدیک اسے اختیار ہوگا کہ غنیمت کا حصہ لے یا اجرت،چوتھا قول یہ ہے کہ اگر اس مزدور نے جنگ کرنے کی شرط نہ لگائی تھی مگر جہاد کیا قتال کیا تو اسے اجرت بھی ملے گی اور غنیمت کا حصہ بھی،احناف کے ہاں اجارہ اور اجر جمع ہو سکتے ہیں۔(مرقات)یہ حدیث بھی امام اعظم کی دلیل ہے کہ جہاد پر اجرت ناجائز نہیں،نہ اس اجرت کا واپس کرنا ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3844