Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3794

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ عَبْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه فتمَسَّهُ النَّارُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي عبس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما اغبرت قدما عبد في سبيل الله فتمسه النار". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو عبس ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی بندے کے پاؤںکی راہ میں گرد آلود ہوں ۲؎پھر اسے آگ چھوئے ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری صحابی ہیں،زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام عبدالعزیٰ تھا،اسلام میں آپ کا نام عبدالرحمن ابن جبیر ہوا مگر آپ کی کنیت نام پر غالب رہی،بدر اور تمام غزوات میں شامل ہوئے،ستر سال کی عمر پائی ۳۴ھ؁ ∞ میں وفات پائی،مدینہ منورہ جنت البقیع میں دفن ہوئے۔(اشعہ،مرقات)
۲
؎یعنی جو شخص رضائے الٰہی کے لیے کوئی راستہ طے کرے اور راستہ طے کرنے میں اس کے قدموں پر گرد و غبار پڑے۔خیال رہے کہکی راہ حج،طلب علم،جنازہ کی حاضری،بیماری ، بیمار پرسی، جماعت نماز میں حاضری سب ہی کو شامل ہے مگر مطلقًاکی راہ سے مراد سفر جہاد ہوتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنا اونٹ فی سبیلوقف کیا ہے وہ کہاں استعمال کیا جائے گا،فرمایا حج میں،قرآن کریم میں جو مصرف زکوۃ میں فی سبیلواقعہ ہے امام ابو یوسف کے ہاں اس سے مجبور غازی مراد ہے،امام محمد کے ہاں مجبور حاجی۔(مرقات)
۳
؎یعنی ایسے شخص کو دوزخ کی آگ جلانہیں سکتی جب راہِ خدا کے غبار کا یہ عالم ہے تو غور کرو کہ خود جہاد کا فائدہ کیا ہوگا خوفِ خدا سے آنکھ کے آنسو،راہ خدا کا غبار،دوزخ کی آگ بجھانے میں اکسیر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3794